صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 55 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 55

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازي أَصْحَابِكَ إِلَّا لَهُ هُنَاكَ مِنْ عَشِيْرَتِهِ لوگوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْتُ أَنْ نے عرض کیا: بخد ابھلا مجھے کیا تھا کہ میں اللہ اور تَكُوْنَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدْ يَدْفَعُ الله اس کے رسول صلی یہ تم پر ایمان لانے والا نہ ہوتا؟ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ ان (قریش کے) پر میرا احسان ہو جس کے ذریعہ اللہ میرے بال بچوں اور جائیداد کی حفاظت کرتا اور مَنْ يُدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جس کا وہاں اس کے کنبے کا کوئی ایسا شخص نہ ہو کہ صَدَقَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَهُ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ جس کے ذریعہ سے اللہ اس کے بال بچوں اور اس عُمَرُ إِنَّهُ قَدْ حَانَ اللهَ {وَرَسُوْلَهُ } کی جائیداد سے ان کے شر کو دور کر رہا ہو۔نبی وَالْمُؤْمِنِيْنَ فَدَعْنِي فَلَأَضْرِبْ عُنُقَهُ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے اور فَقَالَ أَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ تم بھی اس کی نسبت بھلی بات کے سوا کچھ نہ کہو۔حضرت عمر نے کہا: اس نے اللہ اور اس کے رسول لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اور مومنوں سے خیانت کی ہے، (یا رسول اللہ !) اعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑا دوں۔آپ الْجَنَّةُ أَوْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ فَدَمَعَتْ نے فرمایا: کیا وہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں عَيْنَا عُمَرَ وَقَالَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔میں سے نہیں تھا؟ آپ نے فرمایا: امید ہے اللہ نے اہل بدر کو دیکھا ہو اور یہ کہا ہو: جو تم چاہو کرو تمہارے لئے جنت ہو چکی یا فرمایا: میں نے تمہاری پردہ پوشی کر کے تم کو معاف کر دیا ہے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔اطرافه ،۳۰۰۷، ۳۰۸۱ ،۴۲۷۴، ۴۸۹۰، ۶۲۵۹، ۶۹۳۹ ا لفظ وَرَسُوله فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۳۸۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔