صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 54
صحیح البخاری جلد ۸ ولد ۶۴ - کتاب المغازی قَالَ بَعَثَنِي رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ وَالزُّبَيْرَ وَكُلُّنَا فَارِسٌ علیہ وسلم نے مجھے اور ابو مریدا ابو مرند (غنوی) اور زبیر کو قَالَ انْطَلِقُوْا حَتَّى تَأْتُوْا رَوْضَةَ خَانِ بھیجا اور ہم سب گھڑ سوار تھے۔ آپؐ نے فرمایا: فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ مَعَهَا تم (سفر پر روانہ ہو جاؤ یہاں تک کہ جب تم روضه خاخ (مقام) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکوں كِتَابٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى میں سے ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب الْمُشْرِكِيْنَ فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى بَعِيْرٍ بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکوں کے نام ایک خط لَّهَا حَيْثُ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ ہے۔ چنانچہ ہم نے وہاں پہنچ کر اُس کو پالیا جہاں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا الْكِتَابُ فَقَالَتْ مَا رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر مَعَنَا كِتَابٌ فَأَنَخْنَاهَا فَالْتَمَسْنَا فَلَمْ سوار چلی جارہی تھی۔ ہم نے (اس سے) کہا: لا خط نَرَ كِتَابًا فَقُلْنَا مَا كَذَبَ رَسُوْلُ اللهِ نکال کہنے لگی: ہمارے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُخْرِجِنَّ نے اس کے اونٹ کو بٹھا دیا اور تلاشی لی مگر ہمیں صا الله الْكِتَابَ أَوْ لَنُجَرَدَنَّكِ فَلَمَّا رَأَتِ کوئی خط نظر نہ آیا۔ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی علیم کا الْجِدَّ أَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ فرمانا غلط نہیں ہو سکتا، تم کو وہ خط نکالنا ہو گا ورنہ ہم مُحْتَجِزَةً بِكِسَاءٍ فَأَخْرَجَتْهُ فَانْطَلَقْنَا تمہیں نگا کریں گے۔ جب اس نے ہم میں سنجیدگی دیکھی تو وہ اپنی کمر پر بندھی ہوئی چادر کی طرف جھکی بِهَا إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَدْ اور خط نکال کر رکھ دیا۔ ہم اس عورت کو لے کر رسول الله صلى الله وسلم وم کے پاس آئے۔ حضرت عمرؓ نے حَانَ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي کہا: یا رسول اللہ ! حاطب نے اللہ اور اس کے رسول فَلَأَضْرِبْ عُنُقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ اور مومنین سے خیانت کی ہے مجھے اجازت فرمائیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَنَعْتَ قَالَ حَاطِبٌ وَاللهِ مَا بِي نے حاطب سے) پوچھا: کس بات نے تم کو اس أَنْ لَّا أَكُوْنَ مُؤْمِنًا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ کار روائی پر آمادہ کیا ہے جو تم نے کی ہے؟ حاطب