صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 53
صحیح البخاری جلد ۸ ۵۳ ۶۴ - كتاب المغازي باب ۹ : فَضْلُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا ان لوگوں کی فضیلت میں جو جنگ بدر میں شریک ہوئے ۳۹۸۲ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۹۸۲ : عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا۔ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسحاق أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ (ابراہیم بن محمد فزاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں روایت کی۔ انہوں نے کہا: أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَصِيبَ نے حمید (طویل) سے روایت میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ فَجَاءَتْ تھے : حارثہ بن سراقہ بن حارث ) جنگ بدر میں أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شہید ہوئے اور وہ ابھی نوجوان لڑکے تھے، ان فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَدْ عَرَفْتَ کی ماں (ربیع بنت نضر حضرت انس کی پھوپھی ) نبی مَنْزِلَةَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ تَكُنْ فِي الْجَنَّةِ ای ایم کے پاس آئیں۔ کہنے لگیں: یا رسول الله ! أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى آپ جانتے ہی ہیں جو مقام حارثہ کا میرے نزدیک تھا۔ سو اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں اور تَرَ مَا أَصْنَعُ فَقَالَ وَيْحَكِ أَوَهَبِلْتِ ثواب کی امید رکھوں اور اہم اگر کوئی اور بات ہے تو أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کچھ کرتی ہوں۔ آپ وَإِنَّهُ فِي جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ۔ اطرافه: ۶۵۶۷،۶۵۵۰،۲۸۰۹ نے فرمایا: افسوس، کیا تو دیوانی ہے؟ کیا جنت ایک ہی ہے ؟ جنتیں تو بہت سی ہیں اور تمہارا بیٹا تو جنت الفردوس میں ہے۔ : ۳۹۸۳ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ اسحاق ۱:۳۹۸۳ بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ کہ عبد الله بن ادریس نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حُصين بن عبد الرحمن سے سنا۔ انہوں نے سعد بن سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عبیدہ سے ، سعد نے ابوعبدالرحمن (عبداللہ بن السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حبيب) سلمی سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ