صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 52
صحیح البخاری جلد ۸ ۵۲ ۶۴ - کتاب المغازی سے سے چوہیں آدمیوں کی نسبت حکم فرمایا کہ ان کو بدر کے گندے کنویں میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ان کو کنویں میں پھینک دیا گیا (روایت نمبر ۳۹۷۶) اور يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِم ( القمر : ۴۹) کا مصداق ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الاعراف الاعراف : کی آیت کے الفاظ فَهَلْ وَجَدتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا (الأعراف: ۴۵) مخاطب کیا۔ گویا کہ ان دونوں واقعات کے متعلق مکی سورتوں میں پہلے سے پیشگوئیاں موجود تھیں اور مذکورہ آیات کا شان نزول یہ دو واقعات دکھائی دیے۔ روایت نمبر ۳۹۷۷ میں حضرت ابن عباس نے الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ کُفرا کی تشریح میں بتایا ہے کہ اس بیت کے مصداق کفارِ قریش ہیں۔ مکمل آیت آیت ! یوں ہے : اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا وَ أَحَلُوا حلوا قومهم دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ ) (إبراهيم : ۳۰،۲۹) یعنی (اے مخاطب !) کیا تو نے ان لوگوں کی حالت) کو (غور سے) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدل ڈالا ( اور آپ بھی ہلاک ہوئے) اور اپنی قوم کو (بھی) ہلاکت کے گھر میں (لا) اُتارا، یعنی جہنم میں۔ وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ جگہ رہنے کے لحاظ سے) بہت بڑی ہے۔ سورة ابراہیم راہیم مکی سورۃ ہے۔ ذکر کردہ ان آیات اور مذکورہ بالا مذکورہ بالا پہلی آیات کا مضمون عام ہے لیکن یہ سب آیات قریش مکہ کے بد انجام پر چسپاں کی گئی ہیں۔ یہ حوالے آیت ھڈن خَصْمَنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ کی تطبیق میں دیے گئے ہیں۔ روایت نمبر ۳۹۷۸ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذکورہ لطیف استدلال کی شرح کتاب الجنائز باب ۳۲ تا باب ۴۵ میں گزر چکی ہے۔ آپ کا آیت قرآنی إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى (النمل: (۸) اور آیت مَا انْتَ بِمُسْع مَنْ فِي الْقُبُورِ (فاطر: ۲۳) سے استدلال بھی تطبیق کی نوعیت رکھتا ہے۔ مکمل آیات مع ترجمہ یوں ہیں: 1) إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءِ إِذَا وَلَوْا مُدْبِرِينَ (النمل: ۸۱) یعنی تو ہرگز مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو ہی (اپنی) آواز سنا سکتا ہے۔ (خصوصاً) جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ (۲) وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَ لَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَ مَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ (فاطر : (۲۳) یعنی زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے ۔ اللہ تعالیٰ یقینا جس کو چاہتا ہے سنا سکتا ہے مگر تو اُن کو نہیں سنا سکتا جو قبروں میں دبے ہوئے ہوں۔ ا (تفسير القرطبي، تفسير سورة إبراهيم، جزء ۹ صفحه ۳۳۸)