صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 52 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 52

صحيح البخاری جلد ۸ ۵۲ ۶۴ - کتاب المغازی سے چو نہیں آدمیوں کی نسبت حکم فرمایا کہ ان کو بدر کے گندے کنویں میں ڈال دیا جائے۔چنانچہ ان کو کنویں میں پھینک دیا گیا ( روایت نمبر ۳۹۷۶) اور يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِم ( القمر : ٤٩) کا مصداق بنے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الاعراف کی آیت کے الفاظ فَهَلْ وَجَدتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا (الأعراف: ۴۵) سے مخاطب کیا۔گویا کہ ان دونوں واقعات کے متعلق مکی سورتوں میں پہلے سے پیشگوئیاں موجود تھیں اور مذکورہ آیات کا شانِ نزول یہ دو واقعات دکھائی دیے۔روایت نمبر۳۹۷۷ میں حضرت ابن عباس نے الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا کی تشریح میں بتایا ہے کہ اس آیت کے مصداق کفار قریش ہیں۔مکمل آیت یوں ہے : اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كَفْرًا وَ أَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دار البوارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ ) ( إبراهيم : ۳۰،۲۹) یعنی (اے مخاطب ! ) کیا تو نے ان لوگوں کی حالت) کو (غور سے) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدل ڈالا ( اور آپ بھی ہلاک ہوئے) اور اپنی قوم کو (بھی) ہلاکت کے گھر میں (لا) اتارا، یعنی جہنم میں۔وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ جگہ (رہنے کے لحاظ سے ) بہت بُری ہے۔سورۃ ابراہیم مکی سورۃ ہے۔کے ذکر کردہ ان آیات اور مذکورہ بالا پہلی آیات کا مضمون عام ہے لیکن یہ سب آیات قریش مکہ کے بد انجام پر چسپاں کی گئی ہیں۔یہ حوالے آیت ھدن خضينِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ کی تطبیق میں دیے گئے ہیں۔روایت نمبر ۳۹۷۸ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذکورہ لطیف استدلال کی شرح کتاب الجنائز باب ۳۲ تا باب ۴۵ میں گزر چکی ہے۔آپؐ کا آیت قرآنی إِنَّكَ لا تسيح الموتى (النمل: ۸۱) اور آیت مَا أَنْتَ بِمُسْع مَنْ فِي الْقُبُورِ (فاطر :۲۳) سے استدلال بھی تطبیق کی نوعیت رکھتا ہے۔مکمل آیات مع ترجمہ یوں ہیں: 1) إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءِ إِذَا وَلَّوا مُدْبِرِينَ ) (النمل: ۸۱) یعنی تو ہرگز مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو ہی (اپنی) آواز سنا سکتا ہے۔(خصوصاً) جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔b ۲) وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءِ وَ لَا الْاَمْوَاتُ إِنَّ اللهَ يُسْمِيعُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَ مَا أَنْتَ بِمُسْع مَنْ فِي الْقُبُورِ (فاطر: ۲۳) یعنی زندے اور مُردے برابر نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ یقیناً جس کو چاہتا ہے سنا سکتا ہے مگر تو اُن کو نہیں سنا سکتا جو قبروں میں دبے ہوئے ہوں۔(تفسير القرطبي، تفسير سورة إبراهيم، جزء ۹ صفحه ۳۳۸)