صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 51 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 51

صحیح البخاری جلد ۸ ۵۱ ۶۴ - کتاب المغازی اجازت قتال بھی تمام غزوات نبویہ سے متعلق ہے۔کسی ایک غزوہ سے مخصوص نہیں لیکن چونکہ لڑنے والوں کی تعداد کم تھی اور سامان جنگ بھی کم تھا اس لئے جنگ بدر میں الہی نصرت کا وعدہ غیر معمولی صورت میں پورا ہوا۔روایت نمبر ۳۹۶۵ تا ۳۹۶۹ میں طرفین سے طریق مبارزت پر لڑنے والوں کا ذکر ہے۔۳۹۷۱، ۳۹۷۲ میں امیہ بن خلف کا ذکر ہے کہ شکست کھانے کے بعد اس نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی مگر حضرت بلال نے اسے دیکھ لیا اور کہا: اگر یہ ظالم بیچ گیا تو میں نہیں بیچوں گا۔امیہ حضرت بلال کو غلامی کی حالت میں مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت دکھ دیتا تھا۔حضرت بلال نے جونہی امیہ کو دیکھا بغرض فریاد بعض صحابہ کو توجہ دلائی اور امیہ بیچنے بچانے کی کشمکش میں مارا گیا اور اس طرح تقدیر الہی اس کے بارے میں پوری ہوئی جس کا ذکر باب ۲ روایت نمبر ۳۹۵۰ میں گزر چکا ہے۔روایت نمبر ۳۹۷۳ میں عبد الملک بن مروان نے جس مصرعہ کا حوالہ دیا ہے وہ نابغہ ذبیانی کے شعر کا حصہ ہے۔پورا شعر یوں ہے: وَلَا عَيْبَ فِيْهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوفَهُمُ يهِنَّ فُنُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ (فتح الباری جزء صفحہ ۳۷۵) نابغہ نے مذکورہ شعر میں محمد حین کی تعریف یوں کی ہے کہ ان میں کوئی عیب نہیں سوائے اس کہ اپنے دشمنوں کے لشکروں سے لڑتے لڑتے ان کی تلواروں میں دندانے پڑ گئے ہیں۔لَا عَيْبَ فِيهِر کا فقرہ مقامِ مدح کے طور پر استعمال ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ میرے ممدوحین کے بازوؤں میں اتنی طاقت تھی کہ جب انہوں نے لڑائی میں تلواریں چلائیں تو ان میں دندانے پڑ گئے یعنی ان کو بہت زیادہ استعمال کیا اور اپنے دشمنوں کو شکست دے کر اپنا لوہا ود منوالیا۔عبد الملک بن مروان نے نابغہ کا شعر پڑھ کر حضرت زبیر کی بہادری اور ان کی شجاعت کی داد دی۔روایت نمبر ۳۹۷۶ میں قرآنِ مجید کی بعض آیات کے شان نزول (یعنی واقعات پیش آمدہ کے ساتھ ان کی تطبیق ) کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَشَ سَقَر (القمر:۴۹) یعنی (وه وقت جلد آنے والا ہے ) جب (کفار قریش ) اپنے سرداروں سمیت آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) کہ دوزخ کا عذاب چکھو۔دوسری آیت سورۃ الاعراف کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَنَادَى أَصْحَبُ الْجَنَّةِ أَصْحَبَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبِّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ : (الأعراف: ۴۵) یعنی جنتی لوگ دوزخیوں سے کہیں گے کہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، اس کو تو ہم نے سچا پا لیا۔کیا تم نے بھی اس وعدہ کو جو تمہارے رب نے کیا تھا، سچا پایا ہے ؟ اس پر ( دوزخی ) کہیں گے: ہاں! (ہاں)۔آنحضرت صلی الم نے ان دونوں آیات کے ظاہر مفہوم کی لفظی تعمیل بھی فرمائی۔آپ نے سردارانِ قریش میں جنگ شروع ہونے سے قبل فریقین کے چنیدہ آدمیوں کے مقابلے ہوتے تھے، اُسے مبارزت کہتے تھے۔اس واقعہ کی تفصیل کیلئے دیکھئے سیرت خاتم النبيين على العالم حصہ دوم صفحہ ۳۶۰۔