صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 50 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 50

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ ثُمَّ وہ کہنے لگیں: بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ قَرَأَتْ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتُى (النمل: ۸۱) فرمایا تھا کہ اب وہ جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ صحیح تھا۔پھر انہوں نے یہ ساری آیت پڑھی: حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ۔اطرافه: ۱۳۷۰، ۱۳۷۱، ۴۰۲۶،۳۹۷۹۔تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔یح : قَتْلُ أَبِي جَهْلٍ: اس باب میں میں روایتیں ہیں۔ان میں چار روایتوں میں ابوجہل، شیبہ، عقبہ اور ولید کے ہلاک ہونے کا ذکر ہے۔پانچ روایتوں میں آیت هَذِنِ خَصْمِنِ اخْتَصَمُوا فِي دیھم (الحج: ۲۰) کا حوالہ دیا گیا ہے کہ صحابہ کرام کے نزدیک یہ آیت غزوہ بدر کے تعلق میں نازل ہوئی تھی۔مذکورہ آیت سورۃ الج کی ہے جو مدنی سورتوں میں سے ہے۔اور جس میں مسلمانوں کو قتال کی اجازت دیئے جانے کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی مدافعت اور حفاظت کا وعدہ کرنے کے بعد فرماتا ہے: أَذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمُ ظلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دفع اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِ مَنْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِیز ) (الحج: ۴۰، ۴۱) وہ لوگ جن سے (بلا وجہ ) جنگ کی جارہی ہے اُن کو بھی اپنی مدافعت میں جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور اللہ اُن کی مدد پر قادر ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو اُن کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا اور اگر اللہ تعالیٰ ان (کفار) میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (شرارت سے) باز نہ رکھتا تو گر جے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجد میں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، برباد کر دیئے جاتے اور اللہ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا۔اللہ یقیناً بہت طاقتور (اور) غالب ہے۔اس آیت میں نہ صرف مظلوم مسلمان مہاجرین کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے بلکہ نصرت الہی کا وعدہ بھی دہرایا گیا ہے اور اسلامی جنگوں کی غرض و غایت کھلے الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ آزادی قائم ہو جس سے ہر مذہب وملت کی عبادت گاہیں مداخلت غیر سے محفوظ رہیں اور افراد اپنے اپنے طریق پر بے خوف و خطر اپنے خالق کی عبادت کر سکیں۔شان نزول کے تعلق میں یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ اس سے مراد تطبیق ہے۔صحابہ کرام جب کسی آیت کی مطابقت کسی واقعہ سے دیکھتے تو اسے اس پر چسپاں کر دیتے۔آیت ھذنِ خَصْمِنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ بھی اسی طریق سے واقعہ بدر پر چسپاں کی گئی ہے ورنہ یہ آیت اپنے سیاق و سباق کے لحاظ سے اپنے اندر عمومیت رکھتی ہے جیسا کہ ( التحرير والتنوير ، تفسير سورة الحج، جزء اصفحہ ۱۸۰) (روح المعانی، تفسير سورة الحج، آیت ۵۵، جزء۷ ۱ صفحه ۱۸۲)