صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 47
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ اور آپ جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان میں لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرِ الْيَوْمَ الثَّالِثَ تین راتیں قیام فرماتے۔جب آپ بدر میں ٹھہرے أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشَدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا ثُمَّ اور تیسرا دن ہوا تو آپ نے اپنی اونٹی پر کجاوہ باندھنے کا حکم فرمایا۔چنانچہ اس پر کجاوہ باندھا گیا۔پھر آپ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوْا مَا نَرَى چلے اور آپ کے صحابہ بھی آپ کے ساتھ چلے اور يَنْطَلِقُ إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ حَتَّى قَامَ کہنے لگے: ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کسی غرض کے لئے عَلَى شَفَةِ الرَّكِي فَجَعَلَ يُنَادِيْهِمْ ہی چلے ہیں۔آپ اس کنویں کی منڈیر پر پہنچ کر بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ کھڑے ہو گئے۔آپ ان کے اور ان کے باپوں فُلَانٍ وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ کے نام لے کر پکارنے لگے : اے فلاں، فلاں کے بیٹے، اے فلاں، فلاں کے بیٹے ، کیا اب تم کو اس أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا بات سے خوشی ہوگی کہ تم نے اللہ اور اس کے وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا رسول کی فرمانبرداری کی ہوتی کیونکہ ہم نے تو سیچ وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ سچ پالیا جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا، آیا يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادِ تم نے بھی واقعی وہ پالیا ہے جو تمہارے رب نے لَا أَرْوَاحَ لَهَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ تم سے وعدہ کیا تھا؟ ابو طلحہ کہتے تھے : حضرت عمرؓ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ نے کہا: یارسول اللہ ! آپ ان لاشوں سے کیا باتیں کر رہے ہیں جن میں جان نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ حَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا عَليه وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ أَقُوْلُ مِنْهُمْ قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمُ اللهُ میں محمد کی جان ہے تم ان سے زیادہ نہیں سن حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيْخًا وَتَصْغِيرًا رہے ان باتوں کو جو میں کہہ رہا ہوں۔قتادہ نے کہا: اللہ نے ان کو زندہ کر دیا تھاتا آپ کی وہ بات انہیں سنائے کہ انہیں تنبیہ و تذلیل کا موجب ہو، ان پر ناراضگی کا اظہار کر کے ان کو حسرت دلائے اور شر مندہ کرے۔وَنَقِيْمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمَا۔طرفه: ۳۰۶۵۔