صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 45
صحیح البخاری جلد ۸ ۴۵ ۶۴ - کتاب المغازی يَا عُرْوَةُ هَلْ تَعْرِفُ سَيْفَ الزُّبَيْرِ عبد الملک بن مروان نے مجھ سے پوچھا: عروہ! کیا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَمَا فِيهِ قُلْتُ فَلَّةٌ تم حضرت زبیر کی تلوار پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: فُلْهَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ صَدَقْتَ بِهِنَّ ہاں۔انہوں نے کہا: اس کی کیا نشانی ہے؟ میں نے کہا: اس میں دندانے ہیں جو جنگ بدر میں پڑگئے فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ ثُمَّ رَدَّهُ تھے۔عبد الملک نے کہا: تم نے سچ کہا ہے۔ان عَلَى عُرْوَةَ قَالَ هِشَامٌ فَأَقَمْنَاهُ بَيْنَنَا تلواروں میں دستہ ہائے فوج سے ٹکرانے کی وجہ سے ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَأَخَذَهُ بَعْضُنَا وَلَوَدِدْتُ دندانے ہیں۔پھر عبد الملک نے وہ تلوار عروہ کو أَنِّي كُنْتُ أَخَذْتُهُ۔دے دی۔ہشام بن عروہ) کہتے تھے : ہم نے آپس میں اس کی قیمت تین ہزار درہم اندازہ کی اور ہم میں سے ایک شخص نے وہ لے لی اور اب میرے دل میں یہ خواہش اُٹھتی ہے کہ کاش میں ہی اسے لے لیتا۔اطرافه: ۳۷۲۱، ۳۹۷۵ ٣٩٧٤: حَدَّثَنَا فَرْوَةُ عَنْ عَلِقٍ ۳۹۷۴: فروہ (بن ابی المغراء) نے ہمیں بتایا۔عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ كَانَ سَيْفُ انہوں نے علی بن مسہر ) سے ، علی نے ہشام سے، الزُّبَيْرِ مُحَلَّى بِفِضَّةٍ۔قَالَ هِشَامٌ ہشام نے اپنے باپ (عروہ) سے روایت کی، وَكَانَ سَيْفُ عُرْوَةَ مُحَلَّى بِفِضَةٍ۔انہوں نے کہا: حضرت زبیر کی تلوار چاندی سے مرصع تھی۔ہشام نے کہا اور عروہ کی تلوار بھی چاندی سے مرصع تھی۔ارم ٣٩٧٥: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۹۵ احمد بن محمد نے ہمیں بتایا۔عبد اللہ بن حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ (مبارک) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللهِ ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے والد سے روایت کی: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا لِلزُّبَيْرِ جنگ یرموک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے يَوْمَ الْيَرْمُوْكِ أَلَا تَشَدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ صحابہؓ نے حضرت زبیر سے کہا: کیا آپ حملہ نہیں فَقَالَ إِنِّي إِنْ شَدَدْتُ كَذَبْتُمْ فَقَالُوا کریں گے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں؟