صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 44 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 44

صحيح البخاری جلد ۸ م م ۶۴ - کتاب المغازی ۳۹۷۲ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ ۳۹۷۲ عبدان بن عثمان نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ کہا: میرے باپ ( عثمان بن جبلہ ) نے مجھے بتایا۔عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابو اسحاق (سبیعی) عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، ابو اسحاق نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، أَنَّهُ قَرَأَ وَالتَّجْمِ فَسَجَدَ بِهَا وَسَجَدَ مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ فَقَالَ يَكْفِيْنِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ مَنْ مَّعَهُ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفَّا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے سورۃ النجم پڑھی اور اس کے ساتھ سجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔سوائے ایک بوڑھے (امیہ بن خلف) کے، اُس نے ایک مٹھی مٹی لی اور پیشانی سے لگالی اور کہنے لگا: میرے لئے یہی کافی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود) کہتے تھے: میں نے اس کو بعد میں دیکھا کہ وہ بدر کے دن کفر ہی کی حالت میں مارا گیا۔قُتِلَ كَافِرًا۔اطرافه: ۱۰۶۷، ۱۰۷۰، ۳۸۵۳، ۴۸۶۳ ۳۹۷۳: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۳۹۷۳ ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے خبر دی کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَعْمَرٍ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ كَانَ فِي سے، معمر نے ہشام بن عروہ) سے، انہوں نے الزُّبَيْرِ ثَلَاثُ ضَرَبَاتٍ بِالسَّيْفِ (اپنے والد ) عروہ بن زبیر ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت زبیر کو تلوار کے تین زخم لگے تھے ، ان میں ایک ان کے کندھے پر تھا (وہ إِحْدَاهُنَّ فِي عَاتِقِهِ قَالَ إِنْ كُنْتُ لَأُدْخِلُ أَصَابِعِي فِيْهَا قَالَ ضُرِبَ اتنا گہرا تھا کہ میں اپنی انگلیاں اس میں ڈال سکتا ثِنْتَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ وَوَاحِدَةً يَوْمَ الْيَرْمُوْكِ تھا۔عروہ کہتے تھے: ان کو دو زخم جنگ بدر میں لگے قَالَ عُرْوَةُ وَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ اور ایک زخم جنگ یرموک میں۔عروہ بیان کرتے مَرْوَانَ حِيْنَ قُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ تھے کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید ہوئے تو