صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 44
صحیح البخاری جلد ۸ ام سوم ۶۴ - کتاب المغازی ۳۹۷۲ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ ۳۹۷۲: عبدان بن عثمان نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ کہا: میرے باپ ( عثمان بن جبلہ ) نے مجھے بتایا۔ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ انہوں نے شعبہ سے ، شعبہ نے ابو اسحاق (طبیعی) عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، ابو اسحاق نے اسود بن یزید) سے ، اسود نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے ، أَنَّهُ قَرَأَ وَالنَّجْمِ فَسَجَدَ بِهَا وَسَجَدَ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ مَنْ مَّعَهُ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفَّا مِنْ آپ نے سورۃ النجم پڑھی اور اس کے ساتھ سجدہ کیا تُرَابِ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ فَقَالَ يَكْفِيْنِي اور جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا۔ اطرافه ۱۰۶۷ ۱۰۷۰ ، ۳۸۵۳، ۴۸۶۳ کیا۔ سوائے ایک بوڑھے (امیہ بن خلف) کے، اُس نے ایک مٹھی مٹی لی اور پیشانی سے لگالی اور کہنے لگا: میرے لئے یہی کافی ہے۔ حضرت عبداللہ (بن مسعود) کہتے تھے : میں نے اس کو بعد میں دیکھا کہ وہ بدر کے دن کفر ہی کی حالت میں مارا گیا۔ ۳۹۷۳: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۳۹۷۳: ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے خبر دی کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَعْمَرٍ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ كَانَ فِي سے، معمر نے ہشام بن عروہ) سے ، انہوں نے سے روایت کی۔ الزُّبَيْرِ ثَلَاثُ ضَرَبَاتٍ بِالسَّيْفِ (اپنے والد ) عروہ بن زبیر ) إِحْدَاهُنَّ فِي عَائِقِهِ قَالَ إِنْ كُنْتُ انہوں نے کہا: حضرت زبیر کو تلوار کے تین زخم لگے تھے ، ان میں ایک ان کے کندھے پر تھا ( وہ لَأُدْخِلُ أَصَابِعِي فِيهَا قَالَ ضُرِبَ اتنا گہرا تھا کہ میں اپنی انگلیاں اس میں ڈال سکتا ثِنْتَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ وَوَاحِدَةً يَوْمَ الْيَرْمُوْكِ تھا۔ عروہ کہتے تھے : ان کو دو زخم جنگ بدر میں لگے قَالَ عُرْوَةُ وَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ اور ایک زخم جنگ یرموک میں۔ عروہ بیان کرتے مَرْوَانَ حِيْنَ قُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ تھے کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید ہوئے تو