صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 39 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 39

صحيح البخاری جلد ۸ ۳۹ ۶۴ - کتاب المغازی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا (امام بخاری کہتے ہیں : ) عمرو بن خالد نے بھی مجھ سے زُهَيْرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بیان کیا کہ زہیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلیمان تیمی سے ، سلیمان نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی وہ کہتے تھے کہ نبی عالم نے (جنگ بدر اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ کے دن) فرمایا: کون دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا حال أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ ہوا ہے ؟ حضرت ابن مسعودؓ گئے اور جا کر دیکھا کہ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّی اس کو عفراء کے دونوں بیٹوں (معاذ اور معوذ) نے بَرَدَ قَالَ أَأَنْتَ أَبُو جَهْلِ قَالَ فَأَخَذَ ( تلواروں سے ) اتنا مارا ہے کہ وہ مرنے کے قریب ہو گیا ہے۔حضرت ابن مسعودؓ نے پوچھا: کیا تم ابو جہل بِلِحْيَتِهِ قَالَ وَهَل فَوْقَ رَجُلٍ ہو؟ حضرت ابن مسعودؓ کہتے تھے کہ انہوں نے قَتَلْتُمُوْهُ أَوْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ۔قَالَ ابو جہل کی داڑھی پکڑی۔ابو جہل کہنے لگا: کیا اُس أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ۔سے بڑھ کر بھی کوئی شخص ہے جس کو تم نے مارا؟ یا یہ کہا کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ہے جس کو اس کی اطرافه: ۳۹۶۳، ۴۰۲۰ قوم نے مارا ہو؟ احمد بن یونس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ الفاظ کہے کہ تم ہی ابو جہل ہو (یعنی بغیر استفہام کے۔) ٣٩٦٣: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۹۶۳ : محمد بن مثنی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيّ عَنْ سُلَيْمَانَ الى عدی نے ہمیں بتایا کہ سلیمان تیمی نے حضرت التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا: انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ کے دن فرمایا: کون دیکھے گا کہ ابو جہل کس حالت بَدْرٍ مَنْ يَّنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ میں ہے؟ یہ سن کر (حضرت عبد اللہ ) بن مسعودؓ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَوَجَدَهُ قَدْ گئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ فَأَخَذَ اسے اتنا مارا تھا کہ وہ زخموں سے نڈھال ہو رہا تھا۔