صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 37
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۷ ۶۴ - کتاب المغازی وہ جنہوں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پاس لا کے چپڑ چپڑ کر کے پیا، وہ گنتی میں تین سو مرد تھے۔اور باقی سب لوگ پانی پینے کو گھٹنوں پر جھکے۔تب خداوند نے جدعون کو کہا کہ میں ان تین سو آدمیوں سے جنہوں نے چپڑ چپڑ کر کے پیا تجھے رہائی بخشوں گا اور مدیانیوں کو تیرے ہاتھ میں کر دوں گا اور باقی سب لوگوں میں ہر ایک کو اس کے اپنے مکان پر پھر جانے دو۔تب ان لوگوں نے اپنا تو شہ اور اپنے نر سنگے ہاتھوں میں اُٹھائے اور باقی سب اسرائیل میں سے ہر ایک کو اس کے خیمے میں بھیجا اور اُن تین سو کو اپنے پاس رکھا اور مدیانیوں کا لشکر اُس کے نیچے وادی میں تھا۔“ (کتاب مقدس، قاضیوں کی کتاب، باب ۷: ۵ تا ۸، مطبوعہ ۱۸۷۰ء) آخر میں بنی اسرائیل کے مدیانیوں سے نجات پانے کا ذکر ہے اور وہ اس طرح کہ جدعون کے ساتھ جو تین سو آدمی رہ گئے تھے وہ ان کو اپنے ساتھ لے کر دشمنوں سے لڑا اور فتح پائی۔عہد نامہ قدیم کا مذکورہ بالا بیان قرآن مجید کے بیان کردہ واقعہ کی حرف بحرف تائید کرتا ہے اور امام بخاری نے زیر باب جو روایات بیان کی ہیں وہ صحیح واقعات پر مشتمل ہیں اور صحابہ کرام کا یہ بیان کہ بدر والوں کی تعداد طالوت کے ساتھیوں کی تعداد کے مطابق تھی جو اس کے ساتھ نہر سے گزرے تھے اور ان کے ساتھ تین سو دس سے کچھ اوپر مومن تھے بالکل صحیح بیان ہے۔اس تعلق میں تفسیر کبیر مصنفہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی، تفسیر سورة البقرة آیت ۲۵۰ جلد دوم صفحہ ۵۶۳ تا ۵۷۱ بھی دیکھئے۔بَاب : دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ شَيْبَةَ وَعُتْبَةَ وَالْوَلِيدِ وَأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَهَلَاكُهُمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں یعنی شیبه ، عتبه ، ولید بن عتبہ ) اور ابو جہل بن ہشام کے خلاف دعا کرنا اور ان کا ہلاک ہونا ٣٩٦٠: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ۳۹۶۰ : عمرو بن خالد (حرانی) نے مجھے بتایا کہ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ زُبير ( بن معاویہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسحاق عَمْرِو بْن مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن (سبیعی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن میمون اللهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَقْبَلَ سے ، عمرو نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَی نے کعبہ کی طرف منہ کیا اور قریش کے بعض لوگوں مَسْعُوْدٍ رَضِيَ