صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 36 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 36

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی عہد نامہ قدیم کے مذکورہ بالا الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے جدعون نامی شخص پر فرشتہ نازل کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مطلع کیا کہ اسے بنی اسرائیل کو اُن کے دشمن مدیا نیوں کے ہاتھوں سے بچانا چاہیے۔یہ امر واضح رہے کہ جب بنی اسرائیل مصر سے نکل کر کنعان آئے وہ ایک قوم نہیں بنے بلکہ الگ الگ قبیلوں نے جُداجدا زمینوں میں اپنی ریاستیں قائم کر لی تھیں۔اس وقت ان میں کوئی بادشاہت نہیں تھی بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد دو سو سال تک ان میں کوئی بادشاہت قائم نہیں ہوئی اور ان کی یہ حالت تھی کہ جب بنی اسرائیل کچھ ہوتے تھے تو مدیانی، عمالیقی اور اہل مشرق اُن پر چڑھ آتے تھے اور ان کے کھیتوں کی پیداوار کو برباد کر دیتے اور بنی اسرائیل کے لئے نہ تو کچھ معاش ، نہ بھیڑ بکری، نہ گائے بیل، نہ گدھا چھوڑتے تھے۔(قضاۃ، باب ۶: ۴) ان حالات میں بنی اسرائیل نے اپنے وقت کے نبی سے درخواست کی کہ وہ کسی کو اُن کا بادشاہ مقرر کریں جس کی سر کر دگی میں وہ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر کے اُن کے ظلموں سے نجات پائیں چنانچہ جدعون وہ پہلے شخص تھے جو بادشاہ مقرر ہوئے تا بنی اسرائیل کو اُن کے دشمنوں سے نجات دلائیں۔جدعون عبرانی زبان کا لفظ ہے اور جدع کے معنی عبرانی زبان میں کاٹ کر نیچے گرانے کے ہیں۔اسی طرح تراشنے یا کلہاڑی سے کاٹ دینے کو بھی جدع کہتے ہیں اور جدعون اپنے اشتقاق کے لحاظ سے ایسے شخص کو کہیں گے جو اپنے مخالف کو کاٹ ڈالے اور زمین پر گرا دے۔بنی اسرائیل کے لئے مقرر ہونے والے بادشاہ کا نام جدعون اس کا ذاتی نام ہے اور اس کے نام میں وہ وجہ بھی بتائی گئی ہے جس کی بناء پر اس کا یہ نام رکھا گیا تھا۔قرآنِ مجید نے اسے طالوت کے نام سے ذکر کیا ہے۔یہ نام جدعون کا صفاتی نام ہے۔کال کے معنی دوسروں سے بلند اور بڑائی والا ہونے کے ہیں۔پس طالوت ایسے شخص کو کہیں گے جو دوسروں سے درجہ اور بڑائی میں اونچا ہو گیا ہو۔جدعون پہلے تو ایک معمولی گھرانے کا آدمی تھا لیکن وہ بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر ہونے سے بلند و بالا حیثیت کا مالک ہو گیا۔پس قرآنِ مجید نے اس کو اس حیثیت کی صورت میں ذکر کیا ہے۔دونوں ناموں میں کوئی اختلاف نہیں، ایک ذاتی نام ہے اور ایک صفاتی۔جدعون نے بارشادِ خداوندی اپنے ساتھیوں کا جو امتحان ندی کے ذریعہ سے لیا، اس کا ذکر اور یہ کہ اس امتحان میں ۳۱۳ ساتھی کامیاب ہوئے اس کا ذکر عہد نامہ قدیم میں ان الفاظ میں آتا ہے: تب خداوند نے جدعون کو فرمایا کہ لوگ ہنوز زیادہ ہیں سو تو انہیں پانی پاس نیچے لا کہ وہاں میں تیری خاطر انہیں آزماؤں گا۔“ (کتاب مقدس، قاضیوں کی کتاب، باب ۷: ۴، مطبوعہ ۱۸۷۰ء) پھر لکھا ہے: سو وہ اُن لوگوں کو پانی پاس نیچے لایا اور خداوند نے جدعون کو فرمایا کہ جو شخص پانی چپڑ چپڑ کر کے کتے کی مانند پیوے۔تو ہر ایک ایسے کو علیحدہ رکھ اور ویسے ہر ایک کو بھی جو اپنے گھٹنوں پر جھک کے پیوے۔سو۔(لغات عبرانی پادری ولیم ہیو پر۔جدع)