صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 35
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۵ ۶۴ - کتاب المغازی ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کو بعض جنگیں اپنے دشمنوں سے لڑنی پڑیں۔ایک جنگ انہوں نے طالوت کے زیر کمان لڑکی۔جنگ سے پہلے طالوت نے ارشاد خداوندی کے مطابق اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ ندی جو ہمارے سامنے ہے اس میں سے صرف اپنے ہاتھوں سے ایک چلو لے کر پانی پیا جاسکتا ہے۔لیکن جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا تو وہ ہمارے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہو سکے گا۔چنانچہ عہد نامہ قدیم کے بیان کے مطابق صرف ۳۱۳ افراد ایسے نکلے جو حکم پر پورے اترے اور باقیوں نے حکم عدولی کی اور پیٹ بھر کر پانی پی لیا جس کے نتیجہ میں حکم عدولی کرنے والوں کو جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔پھر جنگ ہوئی تو صرف ۳۱۳ مؤمنین مخلصین کی جماعت خدا تعالیٰ کی مدد سے اپنے مد مقابل کثیر تعداد والے لشکر پر غالب آگئی۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کر اہم جنگ بدر کی مشابہت واقعہ طالوت کے ساتھ دو وجوہات کی بنا پر دیتے تھے۔(1) جنگ بدر میں شامل ہونے والے مخلصین مومنین کی تعداد بھی اتنی ہی تھی جتنی کہ طالوت کے ساتھیوں کی تھی۔(۲) جس طرح طالوت کے ۳۱۳ ساتھیوں نے باوجو د تھوڑے ہونے کے کثیر التعداد لشکر پر ایمان کی وجہ سے فتح پائی۔اسی طرح جنگ بدر میں ۳۱۳ مخلص صحابہ نے قریش کے کثیر التعداد لشکر پر باوجو د تھوڑے ہونے کے فتح پائی۔پس ان مشابہتوں کی بناء پر غزوہ بدر کو صحابہ کرام واقعہ طالوت کے ساتھ مطابقت رکھنے والا قرار دیتے تھے۔جس بادشاہ کی سرکردگی میں بنی اسرائیل نے جنگ لڑی اور اپنے کثیر تعداد والے دشمنوں پر فتح پائی۔اس کا نام قرآن مجید نے طالوت بتایا ہے لیکن عہد نامہ قدیم میں اس کا نام جدعون بتایا گیا ہے چنانچہ قضاۃ باب ۶ میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے: پھر خداوند کا فرشتہ آیا اور اس وقت جدعون کے کے کولہو کے پاس گیہوں جھاڑ رہا تھا کہ مدیانیوں کے ہاتھ سے اُسے بچاوے۔سو خداوند کا فرشتہ اسے دکھائی دیا اور اس سے کہا کہ خداوند تیرے ساتھ ہے۔اے بہا در پہلوان - جدعون نے اُسے کہا: اے مالک میرے! اگر خداوند ہمارے ساتھ ہے تو ہم پر یہ سب حادثے کیوں پڑے اور کہاں ہیں اس کی وہ سب قدرتیں جو ہمارے باپ دادوں نے ہم سے بیان کیں۔اور کہا: کیا خداوند ہم کو مصر سے نہیں نکال لایا؟ لیکن اب خداوند نے ہم کو چھوڑ دیا اور ہم کو مدیا نیوں کے قبضے میں کر دیا۔تب خداوند نے اس پر نگاہ کی اور کہا کہ اپنی اس قوت کے ساتھ جا کہ تو بنی اسرائیل کو مدیا نیوں کے ہاتھ سے رہائی دے گا۔کیا میں تجھے نہیں بھیجا۔اور اُس نے اُسے کہا: اے میرے مالک! میں کس طرح بنی اسرائیل کو بچاؤں ؟ دیکھ کہ میرا گھرانا منی میں حقیر ہے اور میں اپنے باپ دادوں کے گھرانے میں سب سے چھوٹا ہوں۔تب خداوند نے اُسے فرمایا کہ میں تیرے ساتھ ہوں گا اور تو مدیا نیوں کو ایک ہی آدمی کی طرح مار لے گا۔“ (کتاب مقدس، قاضیوں کی کتاب، باب ۶: ۱۱تا۱۶، مطبوعہ ۱۸۷۰ء)