صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 34
صحيح البخاری جلد ۸ سلام سلام ۶۴ - كتاب المغازی ہمارے لئے کوئی (شخص) بادشاہ بناکر) کھڑا کیجئے تاکہ ہم اس کے ماتحت ہو کر اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔اس نے کہا: (کہیں) ایسا تو نہیں ہو گا کہ اگر تم پر جنگ فرض کی جائے تو تم جنگ نہ کرو۔انہوں نے کہا: (ایسا نہیں ہو گا) اور ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں گے حالانکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور اپنے بچوں سے (جدا کیا گیا ہے؟) مگر جب اُن پر جنگ فرض کی گئی تو اُن میں سے ایک قلیل (سی) جماعت کے سوا (باقی) سب پھر گئے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔اور اُن کے نبی نے اُن سے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت (یعنی جدعون) کو بادشاہ بناکر ( اس کام کے لئے) کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا : اُسے ہم پر حکومت کس طرح مل سکتی ہے جبکہ ہم اس کی نسبت حکومت کے زیادہ حق دار ہیں اور اسے مالی فراخی بھی (کوئی ایسی زیادہ) عطا نہیں ہوئی۔اُس نے کہا: اللہ نے اسے تم پر یقینا فضیلت دی ہے اور اُسے علمی اور جسمانی لحاظ سے (تم سے زیادہ) فراخی عطا کی ہے اور اللہ جسے پسند کرتا ہے ، اسے اپنا ملک عطا کرتا ہے اور اللہ کشائش دینے والا ( اور ) بہت جاننے والا ہے۔اور اُن کے نبی نے اُن سے کہا کہ اس کی حکومت کی دلیل یہ (بھی) ہے کہ تمہیں (ایک ایسا) تابوت ملے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین ( ہوگی) اور اس چیز کا بقیہ ہو گا جو موسیٰ کے متعلقین اور ہارون کے متعلقین نے (اپنے پیچھے) چھوڑا۔فرشتے اُسے اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔اگر تم مومن ہو تو اس (بات) میں تمہارے لئے یقیناً ایک (بڑا) نشان ہے۔پھر جب طالوت اپنی فوجوں کو لے کر نکلا تو اُس نے کہا کہ اللہ ایک ندی کے ذریعہ سے یقینا تمہارا امتحان لینے والا ہے۔پس جس نے اس (ندی) میں سے ( پیٹ بھر کر پانی پی لیا، وہ مجھ سے (وابستہ) نہیں (رہے گا) اور جس نے اس سے نہ چکھا، وہ یقیناً مجھ سے (وابستہ ) ہو گا سوائے اس کے جس نے اُس میں سے (فقط) اپنے ہاتھوں سے ایک چلو لے (کر پی ) لیا، ( اس پر کوئی الزام نہیں ہو گا۔) پھر (ہوا یہ کہ اُن میں سے چند ایک کے سوا (باقی سب نے) اس میں سے (پانی) پی لیا۔پھر جب وہ خود اور ( نیز ) وہ لوگ جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اُس ندی سے پار اتر گئے (تو) انہوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ کی بالکل طاقت نہیں۔(مگر) جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ وہ (ایک دن) اللہ سے ملنے والے ہیں، انہوں نے کہا کہ بہت سی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آچکی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔(پس ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔) اور جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابلہ) کے لئے نکلے تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم پر قوت برداشت نازل کر اور میدان جنگ میں ) ہمارے قدم جمائے رکھ اور (ان) کافروں کے خلاف ہماری مدد کر۔پھر ( وہ جنگ میں کود پڑے اور انہوں نے اللہ کے ارادے کے مطابق انہیں شکست (دے) دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا اور اللہ نے اسے حکومت اور حکمت بخشی اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا، اس کا علم (داؤد کو ) عطا کیا اور اگر اللہ انسانوں کو ( شرارت سے) نہ ہٹائے رکھتا۔یعنی بعض (انسانوں) کو بعض کے ذریعہ (نہ روکتا) تو زمین نہ وبالا ہو جاتی۔لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔(اس لئے اس فساد کو روک دیتا ہے۔) یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم تجھے پڑھ کر سناتے ہیں۔اس حالت میں کہ تو حق پر (قائم) ہے اور تو یقینا رسولوں میں سے ہے۔