صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 373
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی اس کے زمانہ وقوع کی تعیین کی ہے۔(فتح الباری، جزے صفحہ ۵۷۴، ۵۷۵) اس سے پہلے باب ۳۱ کی تشریح میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ قرد قبائل غطفان کے وسیع صحراء کا نام تھا جس کے مختلف علاقے مختلف ناموں سے مشہور تھے اور اس جگہ پر وقتا فوقتا حملے ہوتے رہتے جس کی وجہ سے سیرت نگاروں اور مؤرخین کے بیانات میں اختلاف ہے۔بعض نے بجائے ربیع الاول کے جمادی الاول میں بتایا ہے۔سیرت نگاروں نے بالاتفاق غزوہ ذی قرد کو غزوہ حدیبیہ سے پہلے بتایا ہے۔اس بارے میں امام ابن حجر نے علامہ قرطبی شارح صحیح مسلم کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: لَا يَخْتَلِفُ أَهْلُ السَّيَرَ أَنَّ غَزْوَةً ذِى قَرَدٍ كَانَتْ قَبْلَ الْحَدَيْبِيَّةِ اور اس کی تائید میں انہوں نے ابن اسحاق کی روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے اطراف میں فتح خیبر سے پہلے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو دو دفعہ بھیجا اور حضرت سلمہ بن اکوع دونوں یورشوں میں شریک تھے۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ دوسرے موقع پر حضرت سلمہ نے اپنا پہلا واقعہ بیان کیا ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ عیینہ بن حصن فزاری نے مدینہ پر دو دفعہ حملہ کیا ہو۔ایک واقعہ حدیبیہ سے پہلے کا ہو اور دوسر احدیبیہ کے بعد کا اس کے بیٹے عبد الرحمن بن عیینہ کی سرکردگی میں۔جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔کے حاکم نے الاکلیل میں ذکر کیا ہے کہ غزوہ ذی قرد متعدد بار ہوا۔ایک بار غزوہ احد سے پہلے حضرت زید بن حارثہ کی قیادت میں اور دوسری بار پانچ ہجری ربیع الآخر میں بہ قیادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تیسرا غزوہ یہی ہے جس کے متعلق اختلاف ہے کہ چھ ہجری میں ہوا یا پانچ میں اور جو اس باب کا موضوع ہے۔یہ حوالے نقل کرنے کے بعد امام ابن حجر لکھتے ہیں : فَإِذَا ثَبَتَ هَذَا قَوِىَ هَذَا الْجَمْعُ الَّذِي ذَكَرْتُهُ یعنی ان روایتوں کے ثابت ہونے کے بعد میرا استدلال مضبوط ہو جاتا ہے کہ غزوہ ذی قرد سے متعلق روایتوں میں دراصل اختلاف اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ ان کا تعلق مختلف وقتوں کے واقعات سے ہے جن میں ذی قرد پر قبیلہ غطفان کی سرکوبی کے لئے حملہ کیا گیا تھا۔بنو فزارہ قبائل غطفان ہی میں سے تھے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۵۷۶،۵۷۵) امام بخاری کے نزدیک بھی یہی درست ہے اور اسی لئے عنوانِ باب میں تخصیص کی گئی ہے کہ یہ غزوہ خیبر سے تین دن پہلے کا واقعہ ہے۔صحیح بخاری کی روایت نمبر ۴۱۹۴ میں تین دن کا ذکر نہیں۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ الفاظ هِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَغَارُ وا۔۔۔سے صحیح مسلم کی روایت کی طرف اشارہ ہے جو ایاس بن سلمہ بن الاکوع سے منقول ہے۔اس کے آخر میں ہے: فَرَجَعْنَا مِنَ الْغَزْوَقِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللهِ مَا لَبِثْنَا بِالْمَدِينَةِ إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ (فتح الباری جزءے صفحہ ۵۷۴) روایت نمبر ۴۱۹۴ کے سیاق سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلمہ بن اکون نے کسی موقع پر اپنا سابقہ واقعہ بیان کیا ہے۔یزید بن ابی عبید راوی نے دو دفعہ لفظ فال سے ان کی آپ بیتی ہی کا ذکر کیا ہے۔قُلْتُ مَنْ (الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية كرز بن جابر الفهري إلى العرنيين، جزء ۲ صفحه ۸۹) (صحیح مسلم ، کتاب الجهاد و السير ، باب غزوة ذی قرد و غيرها )