صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 374
صحیح البخاری جلد ۸ کے سم ۶۴ - کتاب المغازی اخَذَهَا؟ قَالَ غَطفان۔اس تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مع صحابہ ان سے ملنے کا ذکر ہے۔دوسری دفعہ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہہ کر واقعہ بیان کیا ہے۔اس سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ گذشتہ واقعہ بیان کیا گیا ہے جس سے لازم نہیں آتا کہ ان کی اس آپ بیتی کا تعلق اس واقعہ سے ہو جو غزوہ خیبر سے پہلے ہوا تھا اور جس کا ذکر صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت سلمہ بن اکو کا دوڑنے میں ایک انصاری سے مقابلہ ہوا جس میں وہ آگے نکل گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَيرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةً وَخَيْرُ رَجَالَتِنَا الْيَوْمَ سَلَمَةُ : ہمارے سواروں میں بہترین اسپ سوار ابو قتادہ ہیں اور ہماری پیادہ فوج میں سے بہترین سپاہی سلمہ ہیں۔حضرت سلمہ بن اکون نے اپنی سبقت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیاده و سوار دونوں کا حصہ دیا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۷۸) ل صحيح مسلم ، کتاب الجهاد و السیر ، باب غزوة ذی قرد و غيرها )