صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 372
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۷۲ ۶۴ - کتاب المغازی فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَا بَتَيِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ اُن کو پہنچا دی جو مدینہ کے دو پتھر یلے میدانوں انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ میں تھے۔پھر اپنے سامنے بے تحاشہ دوڑ پڑا۔وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ یہاں تک کہ ان لٹیروں کو جالیا اور وہ (جانوروں کو) فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبَلِي وَكُنْتُ رَامِيًا پانی پلانے لگے تھے۔میں نے انہیں تیروں کا نشانہ بنایا اور میں اچھا تیرانداز تھا اور یہ رجز وَأَقُولُ : کہتا جاتا تھا: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ میں اکوع کا بیٹا ہوں، آج کا دن وہ دن ہے جس میں معلوم ہو جائے گا کہ دودھ پلانے والیوں نے کسے دودھ پلایا ہے الْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَعْ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذَتُ الرِّقَاحَ اور میں گر جتے ہوئے یہ رجزیہ شعر پڑھتا۔یہاں مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً تک کہ ان سے تمام دو دھیل اونٹنیاں چھڑا لیں اور قَالَ وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان سے تیس چادریں بھی چھین لیں، کہتے تھے : میں وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ قَدْ اس حال میں تھا کہ نبی صل الیکم دوسرے لوگوں سمیت حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاش آپہنچے۔میں نے کہا: نبی اللہ ! میں نے ان لوگوں فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ فَقَالَ يَا ابْنَ کو پانی نہیں پینے دیا اور وہ پیاسے تھے۔آپ ان کی طرف اس وقت دستہ فوج بھیجے۔آپ نے فرمایا: اکوع کے بیٹے ! تم نے ان پر قابو پالیا ہے اس لئے نرمی کرو۔حضرت اکوع کہتے تھے: پھر ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی علی یم نے مجھے اپنے پیچھے اپنی اونٹنی پر بٹھا لیا اور ہم اسی حالت میں مدینہ میں الْأَكْوَع مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِقُنِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ۔طرفه: ۳۰۴۱ داخل ہوئے۔تشریح : غَزْوَةُ ذَاتِ الْقَرَدِ: غزوۂ ذات قرد کے زمانہ وقوع کے متعلق اختلاف ہوا ہے۔ابن سعد نے نیز شارح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی نے چھٹی ہجری ربیع الاول میں اور غزوہ حدیبیہ سے قبل