صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 371
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۷۱ ۶۴ - كتاب المغازی جُنْدُبٍ نقل کیا ہے ( قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ) که رسول اللہ صلی علی کم ہمیں صدقات کی ترغیب دلاتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ امام ابو داؤد نے یہ روایت بسند معاذ بن هشام (عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ) بیان کی ہے۔ امام احمد بن حنبل نے بھی حضرت عمران بن حصین یہ روایت ( عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ قَتَادَةَ) نقل کی ہے۔ ابو داود کی اس روایت کے راوی اور مسند کے کی یہ را باقی راوی بھی ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۷۳،۵۷۲) باب ۳۷ : غَزْوَةُ ذَاتِ الْقَرَدِ غزوة ذات القرد وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَغَارُوا عَلَی اور یہ وہ حملہ تھا جس میں کفار نے نبی صلی الی ایم کی لِقَاحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دود میل اونٹنیوں پر ڈاکہ ڈالا تھا۔ یہ خیبر کی لڑائی قَبْلَ خَيْبَرَ بِثَلَاثٍ ۔ سے تین روز پہلے کا واقعہ ہے۔ ٤١٩٤ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۱۹۴ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ( بن اسماعیل ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ الى عبید سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے يَقُولُ خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذِّنَ بِالْأُولَى حضرت سلمہ بن اکوع سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ نماز فجر کی اذان سے پہلے (مدینہ سے) نکل کر (غابہ کی طرف) گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو دھیل اونٹنیاں ذی قرد مقام میں چر رہی فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ تھیں۔ کہتے تھے: عبد الرحمن بن عوف کا ایک لڑکا فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ مجھے رستہ میں ملا۔ کہنے لگا: رسول اللہ صلی ال ایم کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ اونٹیاں لے گئے ہیں ہیں۔ میں نے کہا: کون لے گئے أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخْتُ ہیں؟ اس نے کہا: غطفان کے لوگ۔ کہتے تھے: یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدَ قَالَ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ يَا صَبَاحَاهُ قَالَ سنتے ہی میں نے یا صباحاہ کی آواز تین بار بلند کی اور ا (سنن أبي داود، كتاب الجهاد، باب في النهي عن المثلة ) (مسند أحمد بن حنبل، حدیث عمران بن حصین رضی الله عنه، جزء ۴ صفحه (۴۲۸)