صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 370 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 370

صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے صرف عرینہ کہا۔أَنَسٍ مِنْ عُرَيْنَةَ۔وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ مِنْ اور ابوقلابہ نے حضرت انس سے عکل کا لفظ ہی نقل عُكْلِ۔۔۔ذَكَرَ الْقِصَّةَ۔کیا اور انہوں نے صرف یہی واقعہ بیان کیا۔أطرافه : ۲۳۳، ۳۰۱۸،۱۵۰۱، ۴۱۹۲، ۴۶۱۰، ۵۶۸۵، ۵۶۸۶، ۵۷۲۷، ۶۸۰۲، ۶۸۰۳، ۶۸۰۴، ۶۸۰۵، ۶۸۹۹ تشریح: قصَّةُ عُكُل وَعُرَيْنَة : عكل وعرینہ کا واقعہ کتاب الوضوء باب ۶۶ میں گزر چکا ہے۔اس واقعہ کے زمانہ وقوع سے متعلق اختلاف ہے۔ابن اسحاق نے اسے غزوہ ذی قرد کے بعد بتایا ہے۔بخاری کے بعض نسخوں میں بھی اس باب کا کچھ حصہ اگلے باب (غَزْوَةُ ذَاتِ الْقَرَدِ) کے تحت درج ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اسے غزوہ ذات القرد کے ضمن میں پیش کیا ہے۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۷۴،۵۷۲) بعض روایتوں میں صرف قبیلہ عکل کا ذکر ہے اور بعض میں صرف عرینہ کا اور کسی میں دونوں کا۔شعبہ کی محولہ بالا روایت کے تعلق میں دیکھئے کتاب الزكاة باب ۶۸ روایت نمبر ۱ ۱۵۰ ابان بن یزید عطار کی روایت ابن ابی شیبہ نے موصولاً نقل کی ہے اور حماد بن سلمہ کی ابوداؤد اور نسائی نے۔۔یحی بن ابی کثیر کی روایت کیلئے دیکھئے کتاب الحدود، باب المحاربين من أهل الكفر والردة، روایت نمبر ۶۸۰۲۔اور ایوب کا حوالہ کتاب الجهاد والسير باب ۱۵۲ روایت نمبر ۳۰۱۸ میں دیکھئے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۷۳) ان حوالوں سے واقعہ شکل و عرینہ سے متعلق اختلاف کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔شوال ۶ ھ میں عکل وعرینہ کا واقعہ پیش آیا تھا کے اور یہ زمانہ خوف و خطر کا تھا جس میں قبائل نے مدینہ اور اس کے نواح میں غارت گری سے دھاندلی مچا رکھی تھی اور اسی زمانہ سے عکل وعرینہ کے واقعہ کا تعلق ہے۔روایت نمبر ۴۱۹۲ کے آخر میں (قَالَ قَتَادَةُ بَلَغَنَا۔۔۔) قتادہ کا جو قول نقل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ شکل و عرینہ کے بعد مثلہ کرنے کا طریق منع کر دیا تھا اور آپ صدقہ و خیرات کی ترغیب و تحریص فرماتے تھے۔یہ قول امام نسائی نے بواسطہ عبد الصمد بن عبد الوارث (عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةً عَنْ أَنَسٍ) حضرت انسؓ سے نقل کیا ہے۔امام بخاری نے بھی آنحضرت عالیہ کا مذکورہ بالا ارشاد ایک دوسری سند سے نقل کیا ہے۔" ابو داؤد نے یہ ارشاد عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِي عَنْ هَيَّاجٍ بُنِ عِمْرَانَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ (سنن النسائی، کتاب تحریم الله ، باب ذکر اختلاف الناقلين لخبر حميد عن أنس بن مالك ) (سنن أبی داود، کتاب الحدود، باب ما جاء في المحاربة) الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية كرز بن جابر الفهرى الى العرنيين، جزء ۲ صفحه ۸۹) (سنن النسائی، کتاب تحريم الدم ، باب النهي عن المثلة ) (صحيح البخاری، کتاب المظالم ، باب ۳۰: النهى بغیر اذن صاحبه، روایت نمبر (۲۴۷۴