صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 368
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۶۸ ۶۴ - كتاب المغازی بَاب ٣٦ : قِصَّةُ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قصه عکل و عرينه ٤١٩٢ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ ۴۱۹۲ : عبد الا علی بن حماد نے مجھے بتایا کہ یزید بن حَمَّادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا زرایع نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں سعید نے بتایا۔ و الله ارضي عنه سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ انہوں نے قتادہ سے ، قتادہ نے حضرت انس ر عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ سے بیان کیا کہ کچھ لوگ عکل اور عرینہ کے نبی وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى النَّبِيِّ عَلى الم کے پاس مدینہ میں آئے اور اسلام کا کلمہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا پڑھنے لگے۔ انہوں نے کہا: نبی اللہ ! ہم مال مویشی بِالْإِسْلَامِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا والے تھے کھیتی باڑی والے نہ تھے۔ انہوں نے أَهْل ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيْفٍ مدینہ کی آب و ہوا نا موافق پائی۔ رسول اللہ علی ایلام وَاسْتَوْحَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ نے ان کو کچھ ان کو کچھ اونٹ اور ایک چرواہا ساتھ دینے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا حکم دیا اور فرمایا: وہ لے کر چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں۔ چنانچہ وہ چلے گئے۔ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا جب حرہ کے ایک طرف پہنچے ، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حَتَّى إِذَا كَانُوا نَاحِيَةَ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِي چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپؐ نے ان یہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الدَّوْدَ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پیچھے ان کی تلاش میں لوگ بھیجے۔ (جب وہ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ متعلق حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ پھیری گئیں اور ہاتھوں اور پاؤں کو کانا گیا اور حرہ وَأَرْجُلَهُمْ } وَتُرِكُوا فِي نَاحِيَةِ کے ایک کونے میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ۔ اسی حال میں مر گئے۔ پکڑے ہوئے لائے گئے) تو آپؐ نے ان کے ا یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ) ہے ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۷۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔