صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 367 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 367

صحیح البخاری جلد ۸ ۳۶۷ ۶۴ - کتاب المغازی ا۔ قبیلہ خزاعہ کی بعض شاخوں کے ساتھ غیر جانبدار رہنے کا معاہدہ تھا۔ معاہدہ صلح کی شق نمبر 1 کے تحت قبائل خزاعہ ، جہینہ اور سلیم وغیرہ اعلانیہ آپ کے حلیفوں میں شامل ہو گئے جس سے آپ کی سیاسی طاقت بڑھ گئی۔ ۔ اس غیر معمولی ترقی کا اندازہ اس امر سے بآسانی ہو سکتا ہے کہ غزوہ حدیبیہ میں سر فروش مجاہدین کی تعداد چودہ پندرہ سو کے لگ بھگ تھی۔ لیکن صرف دو برس کے بعد فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار ہوگئی تھی۔ فتح حدیبیہ تسخیر قلوب والی فتح تھی نہ درہم و دینار وسطوت و جبروت کی فتح حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص کو جو مفتوحین قریش میں سے تھے بعد میں جو فتوحات حاصل ہوئیں وہ بھی درحقیقت فتح حدیبیہ ہی کا تسلسل تھا اور یہ دور و نزدیک فتوحات کی وجہ سے واقعہ حدیبیہ فتحا قَرِيبًا کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قریبا سے مراد آسان تر۔ بعض اموالِ غنیمت کے اعتبار سے فتح خیبر کو قریب ترین فتح سمجھتے ہیں لیکن یہ معیار درست نہیں بلکہ دراصل وہی معیار درست ہے جو صحابہ کرائم سمجھے ہیں اور جس کا ذکر حضرت براء بن عازب کی روایت نمبر ۴۱۵۰) میں اوپر گزر چکا ہے۔ امام ابن حجر نے إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مبینا کی تفسیر عامر شعبی کے حوالہ سے نقل کی ہے کہ اس فتح مبین سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور اس کی عظمت کے بارے میں استدلال آیت کے الفاظ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ (الفتح : ۳) سے بھی کیا ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۵۱) کیونکہ سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ تبلیغ حق اور اصلاح خلق کی راہ میں جو جو روکیں تھیں وہ سب اس صلح کی برکت سے اُٹھادی گئیں۔ لفظ ذنب سے مراد وہ کو تا ہی ہے جو بوجہ مخالفانہ حالات فرض منصبی کی ادائیگی میں واقع ہو رہی تھی۔ اس کو تاہی کے اسباب دور ہونے پر نبی اکرم صلی الی یوم اپنی بعثت کی غرض و غایت پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بہت جلد کامیاب ہو گئے۔ آیت إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا کی شرح کے تعلق میں دیکھئے روایت نمبر ۴۱۷۲۔ اس روایت کا ایک حصہ حضرت انس سے مروی ہے اور باقی حضرت عکرمہ سے۔ قتادہ کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ فَأَنزَلَ الله سے مراد تطبیق آیت ہے۔ صحابہ کرام کے دریافت کرنے پر آپ نے انہیں فوز عظیم انہیں فوز عظیم کی بشارت دی جس کا ذکر سورۃ الفتح کی پانچویں آیت میں ہے۔ امام احمد بن حنبل، ابو داؤد اور حاکم نے حضرت مجمع بن مجمع بن جاریہ کی روایت نقل کی ہے کہ جب ہم حدیبیہ سے کہ آنحضرت رت صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کو کو کراع الغمیم کے مقام پر کھڑے دیکھا دیکھا اور اور آر آپؐ نے صحابہ کو جمع کیا اور سورة سورۃ الفتح الر کی آیات پڑھیں۔ ایک شخص نے آیات سن کر کہا: نے آیات سن کر کہا : أَو فَتْحٌ هُوَ ؟ کیا یہ هو ؟ کیا یہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا: إِلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لفتح - اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ فتح ہے۔ (فتح الباری جزءے صفحہ ۵۵۰) سے لوٹے تو ا (مكة والمدينة في الجاهلية وعهد الرسول الأحمد ابراهيم الشريف، صلح الحديبية، صفحہ ۳۷۵- الصراع بين المدينة والقبائل العربية، صفحہ ۳۹۷) (سنن أبي داود، كتاب الجهاد، باب فيمن أسهم له سهما ) (مسند احمد بن حنبل، حدیث مجمع بن جارية ، جزء ۳ صفحه ۴۲۰) ( المستدرك على الصحيحين للحاكم ، كتاب التفسير ، تفسير سورة الفتح، جزء ۲ صفحه ۴۹۸)