صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 366 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 366

صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی اپنی تمام جزئیات کے ساتھ قبل از ظہور منکشف ہو جائیں۔ اس بارے میں اُن کا علم بعض وقت اجمالی ہوتا ہے۔ سورۃ الفتح سفر حدیبیہ سے واپسی کے وقت نازل ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو بلایا اور انہیں اس سے آگاہ فرمایا۔ (روایت نمبر ۴۱۷۷) کیونکہ وہ شرائط صلح سے سخت پریشان خاطر تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے اور زیادہ متفکر اور غمگین۔ روایت نمبر ۴۱۷۸ ۴۱۷۹-۴۱۷۸ میں عَيْنًا مِّنَ الْمُشْرِكِينَ سے مراد ر: ریا کار دوست ہیں۔ کہتے ہیں: هُوَ عَبُدُ عَيْنٍ أوْ صَدِيقُ عَيْنٍ یعنی وہ ریا کار خادم یا ریا کار دوست ہے۔ اسی طرح عین کے معنی طليعةُ الْجَيْشِ یعنی ہر اول دستہ یا جاسوس کے بھی ہیں۔ (اقرب الموارد - عین) (المعجم الوسيط - عين) سورۃ الفتح کے نزول سے صحابہ کرام مطمئن ہو گئے کہ وعدہ ال ہو گئے کہ وعدہ الہی ضرور پورا ہوگا۔ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَ أَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ( الفتح : ۱۹) روایت نمبر ۴۱۸۹ کے تعلق میں دیکھئے کتاب الجزیۃ والموادعة باب ۱۸۔ روایت نمبر ۴۱۸۲ میں حضرت ابو بصیر کا جو کا جو واقعہ ضمناً بیان ا بیان ہوا ہے، وہ کتاب الشروط ، باب ۱۵، روایت نمبر ۲۷۳۱- ۲۷۳۲ میں مفصل گزر چکا ہے۔ ان کا نام عتبہ بن اسیدی ہے۔ انہیں حسب شرائط مدینہ سے ان کے دو رشتہ داروں کے مطالبہ پر مکہ مکرمہ واپس کیا گیا تھا۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ نے اپنا عہد پورا کر دیا ہے اس کے بعد آپؐ پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ یہ کہہ کر وہ مدینہ سے چلے گئے اور مقام عیص میں جو ساحل سمندر پر ذو مروہ کے قریب ہے ، چلے گئے اور وہاں اپنا ٹھکانہ بنالیا اور مکہ کو نہیں گئے۔ جب اُن مسلمانوں کو جو مکہ میں ظلم و ستم کا تختہ مشق تھے ان کے ٹھکانہ کا علم ہوا تو حضرت ابو جندل وغیرہ بھی حضرت ابو بصیر کی پناہ گاہ میں آگئے اور رفتہ رفتہ ایک خاصی جمیعت ہو گئی۔ یہاں قریش کا کاروان تجارت ان کی زد میں تھا۔ موقع پاکر اسے اپنی خوراک کے لئے لوٹنا شروع کر دیا۔ اس لئے معاہدہ کی آخری شق قریش کے لئے ایک مصیبت بن گئی اور آخر ا نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنا پڑا کہ معاہدہ کی یہ شرط کا لعدم سمجھی جائے جس پر آپ نے حضرت ابو جندل وغیرہ کو مدینہ میں آنے کی اجازت دے دی۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۲۷ تا ۴۳۰) معاہدے کی یہ شق ذلت پر محمول کی گئی تھی۔ مگر تبلیغی نقطہ نگاہ سے ایک نہایت مفید شق تھی۔ کیونکہ مخلص مومن کا مکہ مکرمہ میں واپس کیا جانا اس کا مشرکین کے درمیان تبلیغ کا ایک ذریعہ تھا اور یہی ہوا کہ فتح مکہ تک بہت سے نفوس مخلصین کے نیک نمونہ سے اسلام قبول کرنے کے لئے مستعد ہو گئے اور فتح مکہ ہونے پر ادھر کفار کا دباؤ ڈور ہوا اور اُدھر لوگ جوق در جوق اعلانیہ اسلام میں داخل ہونے لگے ۔ اسی طرح دس سال والے متارکہ جنگ کے نتیجہ میں عرب ممالک کے ا اندر اور بیرونی دنیا میں تبلیغ کے دروازے کھل گئے جیسا کہ ان تبلیغی خطوط سے ظاہر ہے جو بادشاہوں کو لکھے گئے اور ان وفود سے جو مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لئے آئے۔ ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع: «پس اُس نے اُن پر سکینت اُتاری اور انہیں ایک فتح قریب عطا کی ۔“