صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 366
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۶۶ ۶۴ - کتاب المغازی اپنی تمام جزئیات کے ساتھ قبل از ظہور منکشف ہو جائیں۔اس بارے میں اُن کا علم بعض وقت اجمالی ہوتا ہے۔سورۃ الفتح سفر حدیبیہ سے واپسی کے وقت نازل ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرہؓ کو بلایا اور انہیں اس سے آگاہ فرمایا۔(روایت نمبر ۴۱۷۷) کیونکہ وہ شرائط صلح سے سخت پریشان خاطر تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے اور زیادہ متفکر اور غمگین۔روایت نمبر ۴۱۷۸-۴۱۷۹ میں عَيْنًا مِّنَ الْمُشْرِكِينَ سے مراد ریا کار دوست ہیں۔کہتے ہیں: هُوَ عَبْدُ عَيْنٍ او صَدِيقُ عَيْنٍ یعنی وہ ریا کار خادم یا ریا کار دوست ہے۔اسی طرح عین کے معنی طلیعه الجیش یعنی ہر اول دستہ یا جاسوس کے بھی ہیں۔(اقرب الموارد - عين) (المعجم الوسيط - عين) سورۃ الفتح کے نزول سے صحابہ کر اللہ مطمئن ہو گئے کہ وعدہ الہی ضرور پورا ہوگا۔فَانْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتح قَرِيبًا ئی (الفتح: ۱۹) روایت نمبر ۴۱۸۹ کے تعلق میں دیکھئے کتاب الجزیۃ والموادعۃ باب ۱۸۔روایت نمبر ۴۱۸۲ میں حضرت ابو بصیر کا جو واقعہ ضمناً بیان ہوا ہے، وہ کتاب الشروط، باب ۱۵، روایت نمبر ۲۷۳۱- ۲۷۳۲ میں مفصل گزر چکا ہے۔ان کا نام عتبہ بن اسیڈ ہے۔انہیں حسب شرائط مدینہ سے ان کے دو رشتہ داروں کے مطالبہ پر مکہ مکرمہ واپس کیا گیا تھا۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ نے اپنا عہد پورا کر دیا ہے اس کے بعد آپ پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔یہ کہ کر وہ مدینہ سے چلے گئے اور مقام عیص میں جو ساحل سمندر پر ڈومروہ کے قریب ہے، چلے گئے اور وہاں اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور مکہ کو نہیں گئے۔جب اُن مسلمانوں کو جو مکہ میں ظلم و ستم کا تختہ مشق تھے ان کے ٹھکانہ کا علم ہوا تو حضرت ابو جندل وغیرہ بھی حضرت ابو بصیر کی پناہ گاہ میں آگئے اور رفتہ رفتہ ایک خاصی جمیعت ہو گئی۔یہاں قریش کا کاروان تجارت ان کی زد میں تھا۔موقع پا کر اسے اپنی خوراک کے لئے لوٹنا شروع کر دیا۔اس لئے معاہدہ کی آخری شق قریش کے لئے ایک مصیبت بن گئی اور آخر انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنا پڑا کہ معاہدہ کی یہ شرط کا لعدم سمجھی جائے جس پر آپ نے حضرت ابو جندل وغیرہ کو مدینہ میں آنے کی اجازت دے دی۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۲۷ تا ۰ ۴۳) معاہدے کی یہ شق ذلت پر محمول کی گئی تھی۔مگر تبلیغی نقطہ نگاہ سے ایک نہایت مفید شق تھی۔کیونکہ مخلص مومن کا مکہ مکرمہ میں واپس کیا جانا اس کا مشرکین کے درمیان تبلیغ کا ایک ذریعہ تھا اور یہی ہوا کہ فتح مکہ تک بہت سے نفوس مخلصین کے نیک نمونہ سے اسلام قبول کرنے کے لئے مستعد ہو گئے اور فتح مکہ ہونے پر ادھر کفار کا دباؤ ڈور ہوا اور اُدھر لوگ جوق در جوق اعلامیہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔اسی طرح دس سال والے متارکہ جنگ کے نتیجہ میں عرب ممالک کے اندر اور بیرونی دنیا میں تبلیغ کے دروازے گھل گئے جیسا کہ ان تبلیغی خطوط سے ظاہر ہے جو بادشاہوں کو لکھے گئے اور ان وفود سے جو مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لئے آئے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "پس اُس نے اُن پر سکینت اُتاری اور انہیں ایک فتح قریب عطا کی۔“