صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 365 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 365

صحيح البخاری جلد ۸ ۳۶۵ ۶۴ - کتاب المغازی روایت نمبر ۴۱۶۳ سے واضح ہے کہ صحابہ کرام کی نظر حقیقت بین تھی۔سنگ و خشت کی یادگاریں کوئی وقعت نہیں رکھتیں، اگر قلب حق شناس اور نظر حق بین نہ ہو۔صحابہ کرام اپنی ذریت سمیت خاص الخاص رحمتوں اور برکتوں سے نوازے گئے تھے۔ابن سعد نے بسند نافع روایت کی ہے کہ حضرت عمر کو جب معلوم ہوا کہ اس درخت کے نیچے نماز پڑھتے ہیں تو انہوں نے وہ درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا۔آپ کو اندیشہ ہوا کہ لوگ ظاہر پرستی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔یہ سند صحیح ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۵۸) لیکن فطرت بشری کے تقاضائے محبت کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔آخر وہاں اندازہ کر کے مسجد بنادی گئی جو اب بے شمار لوگوں کے جذبات محبت کی ترو تازگی کا موجب ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہاں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔روایت نمبر ۴۱۶۶ میں ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی اور ان کی اولاد کو دعائے درود سے نوازا۔جن لوگوں کا خیال ہے کہ صرف انبیاء اور رسول ہی درود سے مخصوص ہیں، وہ درود کی اس وسعت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں آل نبی بھی شامل ہیں۔آل کا لفظ اپنے معنوں میں وسیع ہے اور اولاد اور امت دونوں کو شامل رکھتا ہے۔دراصل آل کا اطلاق صرف اولاد نبی پر کرنا ایک خود ساختہ مسئلہ ہے جو ایسے ہی لوگوں کے مناسب حال ہے جس کا ذکر روایت نمبر ۴۱۶۶ میں ہے۔روایت نمبر ۴۱۵۶ میں آتا ہے: وَتَبقَى حُفَالَةٌ كَحْفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لَا يَعْبَأُ اللهُ بِهِمْ شَيْئًا۔لحفالة کے معنی جھاگ، تلچھٹ اور روی شئے کے ہیں۔(اقرب الموارد - حفل) روایت نمبر ۴۱۷۰ میں ہے: أَنْتَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُنَا بَعْدَهُ۔اس فقرہ سے وہ جنگیں اور بدعتیں مراد ہیں جو بعد میں پیدا ہوئی ہیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۶۲) روایات نمبر ۴۱۷۳ تا ۴۱۷۶ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مجزاہ اسلمی کے والد حضرت زاہر بن اسود نیز حضرت سوئید بن نعمان اور حضرت عائذ بن عمرو بھی غزوہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے تھے۔روایت نمبر ۲۱۸۰ کے لئے دیکھئے کتاب الشروط، باب ۱۵، روایت نمبر ۲۷۳۱۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے واقعہ روایات نمبر ۴۱۸۳ تا ۴۱۸۵) سے یہ بتانا مقصود ہے کہ خطرہ کی صورت میں جہاں روک پیدا کی گئی تھی وہیں قربانی کر کے احرام کھول دیا گیا۔روایت نمبر ۴۱۸۸ سے بتایا گیا ہے کہ دوسرے سال یہ وعدہ اسی طرح پورا ہوا جس طرح سورۃ الفتح میں کیا گیا تھا۔خواب میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کس وقت اور کن حالات میں بیت اللہ کا طواف کیا جائے گا۔چونکہ یہ مہم جُنُودُ السَّبوتِ وَالْأَرْضِ ملائکۃ اللہ کے ذریعہ سے اپنے انجام کو پہنچنے والی تھی اس لئے اس کی تفصیلات پر وہ غیب میں رکھی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم اس صراط مستقیم پر چلائے گئے جو مشیت اللہ کے مطابق تھی۔بعد کے واقعات سے مشیت اللہ آشکار ہوگئی اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ رویاء، کشف اور وحی الہی سے متعلق مشاہدات جو امور غیبیہ پر مشتمل ہوں ضروری نہیں کہ وہ انبیاء علیہم السلام پر کہ الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول اللہ ﷺ ، غزوة رسول اللہ ﷺ الحديبية، جزء ۲ صفحہ ۷۶)