صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 364
صحيح البخاری جلد ۸ موسم ۶۴ - کتاب المغازی مکہ مکرمہ میں مقیم مسلمانوں میں سے کوئی مسلمان آپ کے ساتھ نہیں جانے دیا جائے گا۔عمرہ کرنے والوں میں سے اگر کوئی مسلمان مکہ میں رہنا چاہے تو وہ روکا نہیں جائے گا۔باشندگان مکہ میں سے کوئی باشندہ مسلمان ہو یا کافر، مدینہ میں جائے تو وہ واپس لوٹایا جائے ہو تو گا۔لیکن اگر باشندگان مدینہ میں سے کوئی مسلمان مکہ میں آئے تو وہ واپس نہیں کیا جائے گا۔دس سال تک ہمارے مابین کوئی جنگ نہ ہوگی اور قبائل عرب کو اختیار ہو گا کہ فریقین معاہدہ میں سے جس فریق کے حلیف ہونا چاہیں ہو جائیں۔( السيرة النبوية لابن هشام ، أمر الحديبية، شروط الصلح، جزء۳ صفحه ۲۶۴) مذکورہ بالا شرطیں بنظر ظاہر گویا ایک زبر دست فریق کی تھیں جو کمزور فریق سے اپنی طاقت کے بل بوتے پر منوا رہا تھا۔لیکن چشم ظاہر بین کو کیا معلوم کہ جُنُودُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کے ہاتھوں یہی شرطیں نہ صرف فتح مکہ کا باعث بنیں بلکہ تبلیغ و تسخیر و فتح مبین کا ایک زبر دست ذریعہ بن گئیں۔ملائکتہ اللہ کے کام انسانوں کے کاموں سے نرالے ہوتے ہیں۔وہ پر کاہ سے کوہ کا کام لیتے ہیں۔یہ شرطیں صحابہ کرام کو بہت ناگوار معلوم ہوئیں کیونکہ یہ سارا منظر ہی حیرت میں ڈالنے والا تھا۔خواب میں تو دکھایا گیا تھا کہ بیت اللہ کا طواف کیا جارہا ہے اور وہ گھروں سے خوشی خوشی اسی امید سے نکلے تھے کہ بیت اللہ کا طواف کریں گے مگر اس کے برعکس اب وہ اپنے خیال میں ایک پروانہ ہزیمت لے کر کوٹ رہے تھے۔کجا طواف خانہ کعبہ اور کجا یہ پروانہ۔صحابہ کرام کی ذہنی شکستگی و برہمی کا تصور کریں اور اسی نسبت سے آنحضرت علی علی کم کی قدرت تسخیر کا اندازہ جو آپ کو دلوں پر حاصل تھی۔بیعت رضوان میں شامل ہونے والوں کے لئے ان شرائط کا قبول کر لینا بھی ایک موت تھی جو تلخی میں جان دینے کی تلخی سے بھی شدید۔انہوں نے اپنے محبوب آقا کے ہاتھوں شیخ گھونٹ پیا اور اسے پینے پر زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ انہیں کہنا پڑا: تَعُتُونَ انْتُمُ الْفَتَحَ فَتَحَ مَكَةً وَقَدْ كَانَ فَتَحُ مَكَّةَ فَتَعًا وَ نَحْنُ نَعْد الْفَتَحَ بَيْعَةَ الرَّضْوَانِ ( روایت نمبر ۴۱۵۰) یعنی تم تو فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور وہ بے شک فتح تھی لیکن ہم بیعت رضوان کو فتح سمجھتے ہیں۔حضرت براء بن عازب کی یہ شہادت سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے کہ بیعت رضوان لینے کے بعد صحابہ کرام کو بظاہر بہتک آمیز شرائط صلح کا پیالہ پلایا گیا جو انہوں نے پی لیا اور پھر وہی فتح مبین کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوئیں اور اس بیعت رضوان کی تلخی قبول کرنے اور اطاعت شعاری کا عدیم النظیر نمونہ دکھانے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان میں شامل ہونے والوں کو انشر خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔روایت نمبر ۴۱۵۴و۴۱۵۵ سے بتایا گیا ہے کہ ان کے بعد آنے والے ایسے ہی ہیں جیسے اعلیٰ درجہ کے میوہ خرما کے مقابل پر رڈی کھجور۔صحابہ کرام کی نظر میں جو قدر و منزلت بیعت رضوان والوں کی تھی وہ حضرت عمر کے اس سلوک سے ظاہر ہے جس کا ذکر روایت نمبر ۴۱۶۰-۴۱۶۱ میں کیا گیا ہے۔صحابہ کرام کو وہ بہول کا درخت بھی پیارا تھا جس کے نیچے بیعت کی گئی تھی۔جب لوگ وہ جگہ شناخت نہ کر سکے تو وہاں بیعت رضوان کی یاد میں ایک مسجد تعمیر کر دی گئی جو مسجد الشجرۃ کے نام سے مشہور ہے۔(روایت نمبر ۴۱۶۲ تا ۴۱۶۴)