صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 363
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۶۳ ۶۴ - کتاب المغازی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ سمجھے کہ قریش کی نیت بخیر نہیں اور آپ نے حضرت عثمان کا قصاص (انتقام لینے اور قریش کے حملے کا مقابلہ کرنے کی غرض سے بول کے ایک درخت تلے صحابہ کرام سے جانثاری کی بیعت لی جس کا ذکر سورۃ الفتح میں ہے اور جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔فرماتا ہے: لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَن الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبان وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا ، وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (الفتح: ۱۹ ، ۲۰) ترجمہ: اللہ مومنوں سے اس وقت یقیناً خوش ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے اور اس نے جو (اخلاص و) عزم ان کے دلوں میں تھا اسے معلوم کر لیا اور اس کے نتیجے میں اُن پر سکینت نازل کی اور اُن کو ایک قریب میں آنے والی فتح بخشی (یعنی خیبر کی) اور بہت سے اموال غنیمت بھی جنہیں وہ حاصل کریں گے اور اللہ غالب و پختہ کار ہے۔اس بیعت میں مرد و زن بڑے جوش سے شامل ہوئے جو صحابہ ادھر اُدھر گئے ہوئے تھے وہ بھی اس کی اطلاع پاکر اس میں شامل ہونے کے لئے پروانہ وار حاضر ہو گئے۔روایت نمبر ۴۱۶۹،۴۱۶۷ سے ظاہر ہے کہ یہ بیعت موت کی بیعت تھی۔اس تعلق میں کتاب الجھاد ، باب ۱۱۰ بھی دیکھئے۔تاریخ اسلام میں اسی قسم کی ایک اور بیعت کا ذکر ہے کہ جب مدینہ والوں کو معلوم ہوا کہ یزید بن معاویہ کی بیعت کی گئی ہے جو خلاف اصولِ اسلام ہے تو عبد اللہ بن حنظلہ بن ابی عامر انصاری نے ان سے موت کی بیعت لی۔امام ابن حجر اس بارے میں لکھتے ہیں کہ کرمانی کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ یہ بیعت یزید کی حمایت میں تھی۔دراصل اس کے خلاف تھی۔(فتح الباری جزء صفحہ ۵۵۹) اس تعلق میں کتاب التفسیر،سورۃ التوبۃ شرح باب 9 بھی دیکھئے۔بعض شارحین نے اس بیعت کا ذکر ضمنا کیا ہے۔لیکن جو بیعت محولہ بالا روایتوں میں مذکور ہے وہ بیعت رضوان ہے جو تاریخ اسلام کا مہتم بالشان واقعہ ہے۔بیعت رضوان میں شامل ہونے والے مجاہدین جانباز جُنُودُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کے نزول کا پیش خیمہ تھے۔جب قریش مکہ کو اس بیعت کی خبر ہوئی تو وہ مرعوب ہو گئے اور نہ صرف حضرت عثمان کو آزاد کر دیا بلکہ صلح کی گفتگو پر آمادہ ہو گئے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۶۰) بیعت رضوان کیا تھی ؟ موت کی بیعت۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۱۶۹) ضرب المثل ہے: خُذْ بِالْمَوْتِ حَتَّى يَرْضَى بِالخمی از قضاء بگیر تا به تپ راضی شوید - وہی قریش جنہوں نے صلح و آشتی کے پیغام بار بار ٹھکرا دیئے تھے بیعت رضوان کی خبر سنتے ہی سنجیدہ مزاج ہو گئے اور انہوں نے سہیل بن عمرو کو شرائط صلح طے کرنے کے لئے بھیجا۔کتاب الشروط، باب ۱۵، روایت نمبر ۲۷۳۱-۲۷۳۲ میں ان شرطوں کا مفصل ذکر گزر چکا ہے جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے: مسلمان اس سال بغیر عمرہ کے واپس چلے جائیں۔اگلے سال تلواریں میان و غلاف میں رکھے ہوئے مکہ میں داخل ہوں اور عمرہ کر لیں۔مسلح ہونے کی صورت میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔صرف تین دن قیام کرنا ہو گا۔