صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 362
حيح البخاری جلد ۸ ۳۶۲ ۶۴ - کتاب المغازی نظر انداز کر کے غور کرنے کا وعدہ کیا اور عروہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئے۔جیسا کہ کتاب الشروط باب ۱۵ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے اور اس باب ( روایت نمبر ۴۱۷۸، ۴۱۷۹) میں اختصار سے بیان ہوئی ہے۔اشطاط کا جو ہر عسفان سے آگے ہے۔اس روایت میں جس خزاعی جاسوس کے اطلاع دینے کا ذکر ہے ، اس کا نام بشر بن سفیان ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۶۶) غرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خالد بن ولید کے ہر اول دستہ کی مڈ بھیڑ سے بچنے کے لئے عام راستہ چھوڑ کر ایک اور راستہ سے بمقام حدیبیہ پہنچ گئے۔اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص تصرف سے قبل از وقت بذریعہ خزاعہ آپ کو قریش کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا اور آپ نے راستہ تبدیل کر لیا اور اس طرح آپ لڑائی سے بچائے گئے۔(دیکھئے کتاب الشروط ، باب ۱۵ روایت نمبر ۲۷۳۱) غرض آپ نے پوری کوشش فرمائی کہ قریش سے لڑائی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ سورۃ البقرۃ میں فرماتا ہے: اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى علَيْكُمْ فَاعْتَدُ وَا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (البقرة : ۱۹۵) ترجمه: حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے بدلے میں اور تمام حرمت والی چیزوں ( کی ہتک) کا بدلہ لیا جائے گا۔اس لئے جو شخص تم پر زیادتی کرے تم بھی اس سے اس کی زیادتی کا بدلہ لو، ویسے ہی جس قدر کہ اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ کو اپنی سپر بناؤ اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔اس آیت میں آپ کو اجازت دی جاچکی تھی کہ اگر وہ شہر حرام میں تم سے لڑیں تو تم بھی بطور دفاع اُن سے لڑو۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو لڑائی سے محفوظ رکھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے قیدی آزاد کر کے اُن پر احسان فرمایا اور اُن سے براہ راست گفتگو کرنے کے لئے حضرت عثمان کو مکہ مکرمہ بھیجا۔قرابت و تمول کی وجہ سے ان کا وہاں بڑا رسوخ تھا۔ان کی وجاہت کی وجہ سے آپ سمجھے کہ وہ منصب سفارت کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔کتب مغازی میں ہے کہ پہلے آپ نے حضرت عمر کو اس غرض کے لئے تجویز فرمایا تھا۔انہوں نے یہ معذرت پیش کی کہ قریش کے ساتھ نہ اُن کا قرابتی تعلق ہے، نہ اُن میں رسوخ و اثر اور نہ ان کے خاندان بنی عدی بن کعب میں کوئی ایسا شخص ہے جو ان کی حمایت کرے۔اس لئے ان کی سفارت سے مقصد برآری نہ ہوگی۔کے لیکن صحیح بخاری میں حضرت عمر کی اس معذرت کا کوئی ذکر نہیں۔حضرت عثمان اپنے ایک قریبی رشتہ دار ابان بن سعید بن العاص کی حمایت حاصل کر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔دستور کے مطابق بغیر حمایت کوئی غیر شہری داخل نہیں ہو سکتا تھا۔حضرت عثمان نے قریش کو آنحضرت صلی اللہ تم کا پیغام پہنچایا۔بجائے اس پیغام پر غور کرنے کے قریش نے ان کو نظر بند کر لیا اور مشہور ہو گیا کہ وہ قتل کر دیئے گئے ہیں۔( السيرة النبوية لابن هشام، أمر الحديبية، جزء ۳ صفحه ۲۵۸) تاريخ الرسل والملوك للطبرى سنة ست من الهجرة، ذكر الخبر عن عمرة النبي ﷺ التي صده المشركون فيها عن البيت وهي قصة الحديبية، جزء ۲ صفحه ۶۲۲ تا ۶۲۶) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، غزوة رسول الله ﷺ الحديبية، جزء ۲ صفحہ ۷۳) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، أمر الحديبية، جزء ۳ صفحه ۷۶ اتا۱۸۷) (السيرة النبوية لابن هشام، أمر الحديبية، جزء ۳ صفحه ۲۶۱) (المغازى للواقدي، غزوة الحديبية، جزء ۲ صفحه ۶۰۰)