صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 361
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی الله ان میں سے بعض ں روایتوں میں قلت آب کی شکایت اور نبی اکرم صلی علیم کی توجہ اور دعا کی برکت سے اس کے بڑھنے کا ذکر ہے۔ اس بارے میں دیکھئے روایت نمبر ۴۱۵۰ تا ۴۱۵۲۔ نیز اس تعلق میں دیکھئے آئینہ کمالات اسلام (روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۵ تا ۶۸) جہاں اس قسم کے معجزات خارق عادت کی حقیقت اور حقانیت بیان کی گئی ہے۔ (۳) حضرت جابرؓ کی روایات نمبر ۴۱۵۳، ۴۱۵۴ میں جس بیعت رضوان کا ذکر ہے اس کی تفصیل کتب مغازی کی روایات میں ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خراش بن امیہ کو قریش کے پاس بھیجا کہ ہم صرف عمرہ کی نیت سے ذوالقعدہ میں آئے ہیں جو اشہر الحرم میں سے ایک قابل عزت مہینہ ہے۔ لڑائی کی نیت نہیں اور نہ اس مہینے میں قتال جائز ہے۔ عمرہ کر کے ہم واپس چلے جائیں گے ۔ قریش کے بعض مفسدہ پرداز نے ان کا اونٹ مار ڈالا۔ یہ سواری کا اونٹ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ حضرت خراش بن امیہ پر بھی حملہ کرنے لگے تھے لیکن بعض سمجھدار لوگوں کی مداخلت سے وہ بچ گئے۔ اس واقعہ کے بعد قریش نے چالیس پچاس افراد کا ایک جتھہ بھیجا جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرود گاہ پر پتھر اور تیر برسائے جو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کریمانہ عفو سے کام لیتے ہوئے اسے آزاد کر دیا۔ صد علم سورة الح لفة میں اس واقعہ کا ذکر ر ان ان ا الفاظ میں ہے: وَهُوَ وَهَوا الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ يَكُمْ عَنْهُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ( الفتح: ۲۵) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اُن کے ہاتھ تم سے اور ان پر قابو پانے کے بعد تمہارے ہاتھ اُن سے وادی مکہ میں روک دیئے تھے۔ اور اللہ تمہارے اعمال کا خوب بینا تھا۔ اگر لڑائی ہو جاتی تو دس سال کے لئے جو میعادی صلح ( متارکہ جنگ) ہونے والی تھی اس کے امکانات ختم ہو جاتے۔ سفر حدیبیہ سے الہی منشاء کچھ اور تھا اور اسی منشاء کے مطابق اللہ تعالیٰ واقعات کو بروئے کار لایا اور بیت اللہ میں خون ریزی نہیں ہو۔ ناریزی نہیں ہونے دی۔ اس بارے میں نبی اکرم مالی ایم کا جوق صلی للی سیم کا جو قدم بھی اٹھا وہ مشیت الہی کو پورا کرنے والا تھا۔ اس سے قبل جب قریش مکہ کو آپ کی آمد کا علم آمد کا علم ہوا تو انہوں نے خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابی الحکم ( ابو جہل ) کی سرکردگی میں دو سو سواروں کا دستہ نبی اکرم صلی علیم کے مقابلے کے لئے بھیجا جس نے عمیم میں قیام کیا۔ یہ مقام جحفہ کے قریب کاروانی راستے پر واقع ہے۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ قبیلہ خزاعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیف تھا۔ بدیل بن ورقاء سردار خزاعه مع بعض اشخاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ قریش نے لڑائی کی غرض سے بہت بڑی جمیعت تیار کی ہے اور خالد بن ولید کو بطور ہر اول کے مقام عمیم میں بھیجا ہے۔ آپؐ نے اُن سے فرمایا کہ قریش کو اطلاع کر دی جائے کہ ہمارا مقصد جنگ نہیں بلکہ بیت اللہ کا عمرہ ہے۔ قریش کو لڑائیوں سے پہلے ہی سخت نقصان پہنچ چکا ہے اس لئے مناسب ہوگا کہ ایک معین مدت تک کے لئے بذریعہ معاہدہ صلح جنگ روک دی جائے۔ ہمیں اور قبائل عرب کو تنہا چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ بدیل نے آپ کا پیغام ان کو پہنچا دیا۔ جو شیلے نوجوانوں نے یہ پیغام حقارت سے ٹھکرادیا۔ لیکن عروہ بن مسعود ثقفی وغیرہ سنجیدہ لوگوں نے ان کا شور و شغف ا ( السيرة النبوية لابن هشام ، أمر الحديبية، جزء ۳ صفحه ۲۶۱)