صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 359 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 359

تيح البخاری جلد ۸ ۳۵۹ ۶۴ - کتاب المغازی طرف منتقل ہونا اور پھر اس ضمن میں جو واقعات بمقام حدیبیہ رونما ہوئے ، وہ سب اپنی نوعیت میں ایسے ہیں جو بشری عقل و فکر اور علم وارادہ سے بالا ہیں۔باقی روایتوں کا مضمون نمبر وار حسب ذیل ہے: (۱) غزوہ حدیبیہ ذوالقعدہ ۶ ھ میں ہوا۔کتب مغازی کی روایات میں ہے کہ ۶ھ کا آخر تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بغرض عمرہ مدینہ سے دوشنبہ کو روانہ ہوئے اور اس سفر سے لڑائی مقصود نہیں تھی۔صحیح بخاری کی روایات میں بھی یہی مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کر ائم نے عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کر مدینہ سے کوچ کیا تھا۔اس امر سے بوجہ احسن ثابت ہوتا ہے کہ لڑائی کی نیت قطعا نہیں تھی کیونکہ احرام اور قتال متضاد ہے۔روایت نمبر۴۱۵۷ تا ۴۱۵۹ سے بھی یہی بات عیاں ہے کہ احرام سے متعلق تمام آداب پورے طور پر ملحوظ رکھے گئے تھے۔حضرت ابو قتادہ بلا احرام رہے ( روایت نمبر ۴۱۴۹) جس کی وجہ سے انہوں نے ایک گورخر کا شکار کیا۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب جزاء الصيد باب ۲ روایت نمبر ۱۸۲۱۔روایت نمبر ۴۱۴۸ کے لیے کتاب العمرة، باب ۳ دیکھئے۔(۲) عمرہ کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے جو چنداں قابل التفات نہیں۔تیرہ سو سے سولہ سو تک تعداد بیان ہوئی ہے۔ایک راوی کا اندازہ چودہ سو ہے۔دوسرے کا چودہ سو سے کچھ زیادہ ہے۔حضرت جابر کی روایت میں پندرہ سو تعداد بتائی گئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ تعداد دوران سفر بڑھتی چلی گئی ہے۔بوقت روانگی ان کی تعداد تیرہ سو تھی۔غرض مختلف راویوں نے اپنے علم یا قیاس کی بناء پر تعداد کم و بیش بیان کی ہے اور بعض نے سینکڑے کی کسر اپنی روایت میں نظر انداز کر دی ہے۔موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں عمرہ کرنے والے سولہ سو بتائے گئے ہیں۔ابن سعد نے پندرہ سو پچپیں، ابن اسحاق کی روایت میں ستر اونٹ قربانی کے ذبح ہوئے اور اس قربانی کے اندازے سے بعض نے قیاس کیا ہے کہ عمرہ کرنے والوں کی تعد اد سات سو تھی۔ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے۔یہ حسابی کی تعداد اس حد تک درست ہے کہ قربانی کرنے والے اس قدر تھے نہ کہ کل تعداد۔اسی اختلاف کے پیش نظر چار مستند روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے دو حضرت براء بن عازب کی ہیں اور دو حضرت جابر کی۔اول الذکر کی روایت میں چودہ سو صحابی آپ کے ہم سفر بتائے گئے ہیں (روایت نمبر ۴۱۵۱،۲۱۵۰) اور ثانی الذکر کی روایت میں پندرہ سو۔(روایت نمبر ۴۱۵۳،۴۱۵۲) حضرت جابر کی روایت سالم کی سند (نمبر ۴۱۵۲) کے علاوہ تین اور سندوں سے مروی ہے یعنی یزید بن زریع اور سلیمان بن داؤد طیالسی کی سند (نمبر ۴۱۵۳) جس میں پندرہ سو اور علی بن عبد اللہ کی سند میں چودہ سو کا ذکر ہے (نمبر ۴۱۵۴) اس حوالہ میں یہ صراحت ہے کہ بیعت رضوان میں جو ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی چودہ سو صحابہ تھے۔اور ایک الگ حوالہ وَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذ۔۔۔حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کی روایت کا ہے جس میں تعداد تیرہ سو بیان ہوئی ہے۔( نمبر ۴۱۵۵) امام ابن حجر نے اس اختلاف کی وجہ یہی بیان کی ہے کہ مختلف اوقات میں تعداد کم و بیش ہوتی رہی ہے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۵۴۹) وَلَوْكُنتُ ( السيرة النبوية لابن هشام ، أمر الحديبية، جزء ۳ صفحه ۲۵۵) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ، غزوة رسول الله ﷺ الحديبية، جزء ۲ صفحه ۹۱) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، أمر الحديبية ، جزء ۳ صفحه ۱۷۰ تا ۱۷۲)