صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 358
حيح البخاری جلد ۸ ۳۵۸ ۶۴ - کتاب المغازی ساتھ بیعت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ام اس خواب کا ذکر سورۃ الفتح میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : لَقَد صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الدُّنْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُدُنَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ أَمِنِيْنَ مُحَلِقِيْنَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِرِينَ الَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا (الفتح: ۲۸) عنوانِ باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ ہے: لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ل (الفتح : ١٩) سورۃ الفتح کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِيْنَا لَا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيان (الفتح: ۳۲) ان آیات میں واقعہ حدیبیہ فتح مبین اور ایسی نصرت قرار دی گئی ہے جو کامل غلبہ کی صورت میں ظاہر ہو کر مومنوں کے اطمینان و سکون و ازدیاد ایمان کا باعث ہونے والی تھی۔فرماتا ہے کہ یہ عظیم الشان مہم انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ زمین و آسمان کے انہی لشکروں کے ذریعہ پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ویله جُنُودُ السَّهوتِ وَالْأَرْضِ وَ كَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ) (الفتح: ۵) شبیه آیت سورۃ الفتح کے پہلے رکوع میں دو دفعہ وارد ہوئی ہے۔(آیت نمبر ۸٫۵) ایک موعودہ عظیم الشان کامیابی کے تعلق میں اور دوسری دفعہ بدگمان منافقین اور مشرکین کی سڑا اور ان کے بد انجام کے تعلق میں۔دونوں مقصد جنود اللہ (ملائکہ وغیرہ) کے وسیلہ سے انجام پائیں گے۔یہ وہ تمہید ہے کہ جس سے امام بخاری نے ابواب غزوہ حدیبیہ شروع کئے ہیں اور اس تعلق میں پنتالیس مستند روایتیں لائے ہیں جو اس غزوہ سے متعلق امور پر مشتمل ہیں۔ان میں سے پہلی روایت (نمبر ۴۱۴۷) کا مضمون یہ ہے کہ حوادث دنیا میں سے ہر حادثہ رحمت فضل ربانی کا حامل اور اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کے علم و تصرف سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔معنونہ آیت اور پہلی روایت دیباچہ ہیں ان فلکی تصرفات کا جو جُنُودُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کے الفاظ سے تعبیر کئے گئے ہیں۔خواب میں صحابہ سمیت بیت اللہ کا طواف کرنا اور اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن عمرہ کرنے کی (الدر المنثور، سورة الفتح آیت ۲۷: لقد صدق الله ، جزء ۱۳ صفحه ۵۱۱ تا ۵۱۳ ) ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۴۸) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " یقینا اللہ نے اپنے رسول کو (اس کی) رویا حق کے ساتھ پوری کر دکھائی کہ اگر اللہ چاہے گا تو تم ضرور بالضرور مسجد حرام میں امن کی حالت میں داخل ہوں گے ، اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بال کترواتے ہوئے، ایسی حالت میں کہ تم خوف نہیں کرو گے۔پس وہ اس کا علم رکھتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے۔پس اس نے اس کے علاوہ قریب ہی ایک اور فتح مقدر کر دی ہے۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: یقینا اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے۔وہ جانتا ہے جو اُن کے دلوں میں تھا۔پس اُس نے ان پر سکینت اُتاری اور انہیں ایک فتح قریب عطا کی۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع ”یقینا ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔تاکہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور ہر آئندہ ہونے والی لغزش بخش دے اور تجھ پر اپنی نعمت کو کمال تک پہنچائے اور صراط مستقیم پر گامزن رکھے۔“ ۵ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ” اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور اللہ دائمی علم رکھنے والا ( اور ) بہت حکمت والا ہے۔“