صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 357
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۵۷ ۶۴ - کتاب المغازی ٤١٩١ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ :۳۱۹۱ محمد بن هشام ابو عبد اللہ نے مجھ سے بیان أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے، أَبِي بِشْرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابو بشر نے مجاہد سے ، مجاہد نے عبد الرحمن بن ابی لیلی بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم نے احرام كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ باندھے ہوئے تھے اور مشرکوں نے ہمیں (کعبہ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ قَالَ وَكَانَتْ کا طواف کرنے سے) روک دیا تھا۔حضرت کعب لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُ تَسَاقَطُ کہتے تھے: میرے لمبے بال تھے اور جوئیں میرے عَلَى وَجْهِي فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ منہ پر گرنے لگیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُ پاس سے گزرے۔آپ نے پوچھا: کیا تمہارے رَأْسِكَ قُلْتُ نَعَمْ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: سر کے کیڑے تمہیں تکلیف دیتے ہیں؟ میں نے فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهَ أَذًى مِنْ کہا: جی ہاں۔(کہتے تھے: ) اور اس وقت یہ آیت رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نازل ہوئی: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا (یعنی) جو تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو نُسُكِ (البقرة: ۱۹۷) تو روزوں یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔أطرافه: ۱۸۱۸،۱۸۱۷،۱۸۱۶،۱۸۱۵،۱۸۱۴، ۴۱۵۹ ، ۴۱۹۰ ، ۴۵۱۷، ۶۷۰۸،۵۷۰۳،۵۶۶۵ تشریح : غَزْوَةُ الحديبية : صحیح بخاری کے نسخہ کشمیبنی میں عنوانِ باب کے لئے بجائے عزوة الحدَيْبِيَّةِ کے عُمرَةُ الحَدَيْبِيَّةِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۴۸) کتاب المغازی کے شروع میں یہ بتایا جاچکا ہے کہ غزوہ کے اصطلاحی معنی کوچ یا یورش کے ہیں۔اس لفظ کا یہ استعمال عوام میں رائج تھا۔اس میں لڑائی کا ہونا لازمی نہیں۔غزوہ حدیبیہ سے متعلق روایات اور ان کی شرح کتاب الشروط باب ۱۵،۱ میں ملاحظہ ہو۔حُدَ يُبية کی یاء تشدید سے بھی ہے اور تخفیف سے بھی۔حدیبیہ کنویں کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے ایک منزل (۱۰ میل) کے فاصلہ پر ہے۔اس نام سے حدیبیہ کی بستی مشہور ہے۔یہ سفر ایک خواب کی بناء پر صرف عمرہ کی غرض سے ذوالقعدہ (1ھ ) کے شروع میں اختیار کیا گیا تھا۔نبی اکرم صلی علی کریم نے خواب میں دیکھا کہ آپ صحابہ کے هدی السارى مقدمة فتح البارى ، الفصل الخامس في سياق الألفاظ الغريبة، الحديبية، صفحه ۱۴۹) ( معجم البلدان للحموي، باب الحاء والدال - الحديبية )