صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 30 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 30

صحيح البخاری جلد ۸ ۳۰ ۶۴ - کتاب المغازی بابه ٣٩٥٤: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ :۳۹۵۴ ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ہشام نے ہمیں خبر دی۔ابن جریج نے انہیں بتایا، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ کہا: عبدالکریم (بن مالک) نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے مقسم سے سنا جو عبد اللہ بن حارث کے أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ آزاد کردہ غلام تھے۔وہ حضرت ابن عباس سے بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ روایت کرتے تھے کہ لَا يَسْتَوِي الْقَعِدُونَ مِنَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ لَا يَسْتَوِي الْقَعِدُونَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ یعنی مومنوں میں مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (النساء : ٩٦) عَنْ بَدْرٍ سے ایسے بیٹھ رہنے والے جو ضرر رسیدہ نہیں ہیں سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک وَالْخَارِجُوْنَ إِلَى بَدْرٍ۔طرفه: ۴۵۹۵ نہیں ہوئے اور جو اُس میں شریک ہوئے۔تشریح یہ باب بلا عنوان ہے۔روایت زیر باب میں محولہ آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے کتاب التفسیر، سورۃ النساء، باب ۱۸ پوری آیت یوں ہے : لا يَسْتَوى القَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولى الضَّرِّرِ وَالمُجْهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ - فَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ عَلَى الْقَعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ) (النساء : ۹۲) یعنی مومنوں میں سے جہاد سے پیچھے رہنے والے جو ضر ر رسیدہ نہیں ہیں اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔اللہ نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ذریعہ جہاد کرنے والوں کو (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں فضیلت دی ہے۔اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو پیچھے) بیٹھے رہنے والوں پر (بہت) بڑے اجر کا وعدہ کر کے (ضرور) فضیلت دی ہے۔اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں کا ذکر کیا ہے جو ہجرت کی طاقت رکھتے ہوئے اس سے گریز کر رہے تھے۔فرمایا: إِلا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيْلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سپیلائی ( النساء:۹۹) یعنی وہ لوگ جو مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے فی الواقع کمزور تھے (اور) وہ کسی تدبیر کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ کوئی راہ انہیں نظر آتی تھی کہ وہ ہجرت کر سکیں) ان لوگوں کے متعلق خدا کی بخشش قریب ہے۔اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو کمزور اور بے سروسامان تھے اور اپنی کمزوری کی وجہ سے