صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 29 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 29

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۹ ۶۴ - کتاب المغازی پس ایسے واضح الہی بیان کی موجودگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ سمجھنا اور کہنا کہ الہی منشاء آپ پر مخفی تھا، کس طرح صحیح سمجھا جاسکتا ہے ؟ صرف سورۃ البقرہ کی ان آیات میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راہنمائی نہیں تھی بلکہ بعض دوسری مکی سورتوں میں بھی مشیت الہی واضح کر دی گئی تھی اور کھلے الفاظ میں اس مضمون پر سے پردہ اُٹھایا گیا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ القمر میں فرماتا ہے : اَم يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيع مُنْتَصِرُ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُره ( القمر: ۴۶،۴۵) یعنی کیا (مکہ والے) کہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں جو غالب آکر رہیں گے۔ان کی جماعت کو شکست دی جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔چنانچہ اس باب کی روایت نمبر ۳۹۵۳ سے ظاہر ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر لڑائی شروع ہونے سے قبل جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا سے فارغ ہوئے تو آپ نے سورۃ القمر کی جو مکی سورۃ ہے مذکورہ بالا آیت پڑھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل چکا تھا کہ مسلمانوں کو کفار سے جنگیں لڑنی پڑیں گی اور کفار شکست کھا کر اپنی طاقت کھو بیٹھیں گے۔الغرض ان سب امور سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آمدہ واقعات کے بارے میں پہلے سے پوری پوری بصیرت عطا کی گئی تھی۔سورۃ التکویر میں آپ کے علم غیب سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ولقد رَاهُ بِالْأَلْقِ الْمُبِينِ ، وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ & ( التكوير: ۲۵،۲۴) کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیبی امور کو کھلے افق میں دیکھا ہے اور وہ غیبی خبریں بتانے میں ہرگز بخیل نہیں یعنی آپ بلند مقام سے غیب کو دیکھ چکے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ بلند مقام پر کھڑے ہو کر دیکھنے سے دور و نزدیک کی سب اشیاء نظر کے سامنے آجاتی ہیں۔آپ نے غزوات سے متعلق جو قدم اٹھایا، وہ وحی الہی کے نور اور روشنی میں علی وجہ البصیرت تھا۔چنانچہ آئندہ کے ابواب کی تشریح میں یہ امر بالکل واضح ہو جائے گا۔سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَ لكن الله رلى (الأنفال: ۱۸) کہ اے نبی ! جنگ میں جو کنکر آپ نے کفار کی طرف پھینکے وہ اللہ کے منشاء کے عین مطابق پھینکے۔بلکہ اس آیت میں آپ کا یہ فعل الہی فعل قرار دیا گیا ہے۔پھر سورۃ الکہف کی آیات ۶۶ تا ۸۳ میں آپ کو ایک ایسا عبد قرار دیا گیا ہے جسے علم لدنی عطا ہوا تھا اور جو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کو سمجھنے والا اور الہی منشاء کے مطابق قدم اُٹھانے والا تھا اور اس کے ارادے کو اللہ تعالیٰ کا ارادہ قرار دیا گیا ہے۔پس ایسے عبد عارف کے متعلق یہ خیال کرنا کہ آئندہ پیش آنے والے واقعات کے متعلق آپ کو پورا انکشاف نہ تھا اور یہ کہ آپ غزوہ بدر میں نکلے تو تجارتی قافلہ کے قصد سے تھے لیکن چونکہ وہ بیچ کر نکل گیا تھا اس لئے آپ نے مسلح فوج کے مقابلہ کا قصد کیا، نہایت غلط خیال ہے اور قرآنی آیات اور واقعات اس کی پورے زور سے تکذیب کرتے ہیں۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم بدلہ لینے والا گر وہ ہیں۔66