صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 31 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 31

صحیح البخاری جلد ۸ اسم ۶۴ - کتاب المغازی وطن نہیں چھوڑ سکتے تھے اور نہ ہی دشمن کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ایسے لوگ اپنی کمزوری کی وجہ سے قابل عفو ہیں۔ ان کی اس کمزوری کے بیان کے لیے یہ باب سابقہ عنوان میں شامل کیا گیا ہے۔ یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ دشمن بھی صحابہ کرام کو کمزور سمجھتا تھا اور اُسے یقین تھا کہ وہ ان کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس تعلق کی وجہ سے یہ باب سابقہ عنوان میں شامل کیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے شانِ نزول کی بحث کی ہے یہ اُن کی اپنی تطبیق ہے اور پھر موقع نزول اور شان نزول کا فرق بھی لوگ نہیں سمجھتے۔ مقسم راوی بعض سندوں میں حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام بتائے گئے ہیں لیکن یہ بات درست نہیں، وہ اکثر حضرت ابن عباس کی رفاقت میں دیکھے جاتے، عبد اللہ بن حارث نے انہیں آزاد کیا تھا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۳۶۲) اس غلطی کی اصلاح اس روایت میں کی گئی ہے۔ بَاب ٦ : عِدَّةُ أَصْحَابِ بَدْرٍ جنگ بدر میں شامل ہونے والوں کی تعداد ٣٩٥٥: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۳۹۵۵: مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ اسْتُصْغِرْتُ أَنَا ابو اسحاق نے حضرت براء بن عازب) سے روایت وَابْنُ عُمَرَ ۔۔۔ طرفه: ۳۹۵۶ کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور (عبد اللہ بن عمر جنگ بدر کے وقت کم عمر ( نابالغ) سمجھے گئے۔ ٣٩٥٦: وَحَدَّثَنِي مَحْمُوْدٌ حَدَّثَنَا ۳۹۵۶ اور (امام بخاری کہتے ہیں:) محمود وَهُبٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ( بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) ہم سے وہب بن جریر ) نے بیان کیا، انہوں نے شعبہ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ اسْتُصْغِرْتُ أَنَا وَابْنُ سے، انہوں نے ابو اسحاق سے ، انہوں نے حضرت عُمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَ الْمُهَاجِرُوْنَ يَوْمَ براء بن عازب) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بَدْرٍ نَبِّفًا عَلَى سِتِّينَ وَالْأَنْصَارُ نَيِّفًا جنگ بدر کے دن میں اور (عبد الله ) بن عمر کم عمر وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ۔ طرفه ۳۹۵۵ سمجھے گئے اور بدر کی لڑائی میں مہاجرین کی تعداد کچھ ساٹھ سے اوپر تھی اور انصار تقریباً دو سو چالیس تھے۔ ٣٩٥٧ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ۳۹۵۷ : عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا۔ زہیر