صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 350 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 350

صحیح البخاری جلد ۸ ۳۵۰ ۶۴ - كتاب المغازی ٤١٨٠ - ٤١٨١: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ۴۱۸۰ - ۴۱۸۱: اسحاق بن راہویہ ) نے مجھ سے أَخْبَرَنَا يَعْقُوْبُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِی بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم بن سعد ) نے ہمیں ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ خبر دی کہ ابن شہاب کے بھتیجے نے مجھے بتایا۔ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ انہوں نے اپنے چا محمد بن مسلم بن شہاب) سے وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ فَكَانَ روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ سے سنا کہ وہ دونوں اس واقعہ کی خبر بیان کرتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ حدیبیہ فِيْمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمَّا میں پیش آیا تھا۔ عروہ نے ان دونوں سے روایت كَاتَبَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرتے ہوئے مجھے جو بتایا اس میں یہ بھی تھا کہ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ میں سہیل بن عمرو سے قضیہ معیادی کا صلح نامہ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ لَا يَأْتِيكَ لکھوایا اور سہیل بن عمرو نے جو شرطیں کی تھیں ان مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا میں سے اس نے یہ بھی کہا تھا: تمہارے پاس ہم رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ۔ میں سے جو کوئی جائے گا اور وہ تمہارے دین پر وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ تُقَاضِيَ رَسُوْلَ اللهِ بھی ہوا تو تم نے اسے ہماری طرف لوٹا دینا ہوگا اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ دو گے۔ سہیل نے انکار کر دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللی روم فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُوْنَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا سے بغیر اس کے صلح کرے۔ مومنوں نے اس فَتَكَلَّمُوْا فِيْهِ فَلَمَّا أَبَي سُهَيْلٌ أَنْ شرط کو بُرا مانا اور پیچ و تاب کھانے لگے اور اس کے يُقَاضِيَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ متعلق باتیں کرنے لگے۔ جب سہیل نے بغیر اس وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُوْلُ اللهِ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرنے سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ رَسُوْلُ اللهِ قطعی انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ اسے یہ شرط لکھنے کے لئے کہا اور رسول اللہ صلی اللی ام