صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 349
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۴۹ ۶۴ - کتاب المغازی کا واقعہ ہوا، نبی صلی الیکم ایک ہزار سے کچھ زیادہ اپنے وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَم يَزِيْدُ أَحَدُهُمَا عَلَى مُجھے یاد دلایا۔معمر نے عروہ بن زبیر سے ، عروہ نے صَاحِبِهِ قَالَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى الله حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ کی۔ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کچھ زیادہ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا أَتَى بیان کرتا تھا۔ان دونوں نے کہا: جس سال حدیبیہ ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ ساتھیوں کو لے کر نکلے۔جب آپ ذوالحلیفہ میں مِنْهَا بِعُمْرَةٍ وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ بنے تو آپ نے قربانی کے گلے میں ہار ڈالا اور اس پہنچے وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کے کوہان پر نشان لگایا اور وہاں سے عمرہ کا احرام كَانَ بِغَدِيْرِ الأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ قَالَ باندھا اور اپنے ایک سراغ رساں کو بھیجا جو خزاعہ قوم إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوْعًا وَقَدْ سے تھا اور نبی صلی العلم روانہ ہو گئے یہاں تک کہ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيْشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ آپ انشطاط کے جوہر پر پہنچے تو آپ کا سراغ رساں وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ فَقَالَ آپ کے پاس آیا۔اس نے کہا: قریش نے آپ کیلئے أَشِيْرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَى أَتَرَوْنَ أَنْ بہت سے جتھے جمع کئے ہیں اور آپ کیلئے جتی تھی اکٹھے کئے ہیں اور وہ آپ سے لڑیں گے اور آپ کو أَمِيْلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِي هَؤُلَاءِ بیت اللہ سے روکیں گے اور عمرہ نہ کرنے دیں گے۔الَّذِيْنَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّوْنَا عَنِ الْبَيْتِ آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا تمہاری یہ رائے فَإِنْ يَّأْتُوْنَا كَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ہے کہ میں ان لوگوں کے بال بچوں پر حملہ کروں جو قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ ہمیں بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ ہم پر حملہ مَحْرُوبِيْنَ۔قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُوْلَ اللهِ کریں گے تو اللہ عز وجل مشرکوں کے ریاکار دوستوں خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيْدُ کو کاٹ دے گا ورنہ ہم انہیں مفلوک و قلاش چھوڑ قَتْلَ أَحَدٍ وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ فَتَوَجَّهُ لَهُ دیں گے۔حضرت ابو بکر نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ۔بیت اللہ کا عزم کر کے نکلے تھے ، نہ کسی کو مارنے کا فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ۔قَالَ امْضُوا ارادہ تھا اور نہ کسی سے لڑنے کا، اس لئے آپ اسی عَلَى اسْمِ اللهِ۔طرف چلئے۔جس نے ہم کو اس سے روکا، ہم اس سے لڑیں گے۔آپ نے فرمایا: اللہ کے نام پر چلے چلو۔اطراف الحدیث ٤۱۷۸ : ۱۸۱۱،۱۶۹۴، ۲۷۱۲، ۴۱۸۱،۴۱۵۸،۲۷۳۱ اطراف الحديث ۱۱۷۹ : ۱۶۹۵، ۲۷۱۱، ۲۷۳۲، ۴۱۸۰،۴۱۵۷