صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 348
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۴۸ ۶۴ - کتاب المغازی پیچھے پڑ کر تین بار پوچھا ہے اور ہر دفعہ آپ نے تجھے فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے جواب نہ دیا۔پھر آپ سے پوچھا اور آپ نے وَسَلَّمَ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ {ثُمَّ سَأَلَهُ پھر جواب نہ دیا۔پھر انہوں نے آپ سے پوچھا فَلَمْ يُجِبْهُ } وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اور آپ نے ان کو جواب نہ دیا۔حضرت عمر بن ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا عُمَرُ نَزَّرْتَ رَسُوْلَ اللهِ خطاب نے (اپنے دل میں یہ ) کہا: عمر تیری ماں تجھے کھوئے تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُكَ۔قَالَ عُمَرُ جواب نہیں دیا۔حضرت عمرؓ کہتے تھے: میں نے فَحَرَّكْتُ بَعِيرِى ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ اونٹ کو تیز کیا اور مسلمانوں کے آگے ہو گیا اور الْمُسْلِمِيْنَ وَخَشِيتُ أَنْ يُنْزِلَ فِی میں ڈرا کہ کہیں میرے متعلق قرآن نازل نہ ہو۔قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِحًا تھوڑی دیر ٹھہرا تھا کہ میں نے ایک پکارنے والے يَصْرُخُ بِي قَالَ فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيْتُ کو سنا جو مجھے پکار رہا تھا۔کہتے تھے: میں نے کہا: أَنْ يَكُوْنَ نَزَلَ فِي قُرْآنٌ وَجِئْتُ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے متعلق قرآن نازل نہ ہوا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہو۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ میں نے آپ کو السلام علیکم کہا۔آپ نے فرمایا: آج رات مجھ پر ایک سورۃ نازل کی گئی ہے جو مجھے عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ ان تمام اشیاء سے زیادہ پیاری ہے جن پر سورج مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَرَأَ: چڑھا ہے۔پھر آپ نے یہ سورۃ پڑھی: إِنَّا فَتَحْنَا إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (الفتح : ٢) لك۔(یقینا ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔) اطرافه: ۵۰۱۲،۴۸۳۳ ٤١٧٨ - ٤١٧٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۴۱۷۸-۴۱۷۹: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا، الزُّهْرِئَ حِيْنَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ انہوں نے کہا: میں نے زہری سے جب انہوں نے حَفِظْتُ بَعْضَهُ وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ عَنْ یہ حدیث بیان کی، سنا ( کہتے تھے :) اس میں سے عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَحْرَمَةَ کچھ میں نے یاد رکھا اور جو میں بھولا ہوا تھا، معمر نے 1- یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۶۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔