صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 347
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۴۷ ۶۴ - کتاب المغازی عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ مِنْ سے ، بشیر نے حضرت شوید بن نعمان سے روایت أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ کی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أُتُوا درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بِسَوِيقٍ فَلَاكُوْهُ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس ستو لائے گئے جو انہوں نے منہ میں ادھر اُدھر پھیر پھار کر کھالئے۔ تَابَعَهُ مُعَادٌ عَنْ شُعْبَةَ۔ (ابن ابی عدی کی طرح) معاذ نے بھی شعبہ سے یہی روایت کی۔ اطرافه: ۴۱۹۵،۲۹۸۱،۲۱۵،۲۰۹، ۵۳۸۴، ۵۴۵۵۰۵۴۵۴،۵۳۹۰ ٤١٧٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ ۴۱۷۶: محمد بن حاتم بن بزیع نے ہم سے بیان کیا بْنِ بَزِيعِ حَدَّثَنَا شَاذَانُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ که شاذان (اسود بن عامر ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِدَ بْنَ عَمْرِو نے شعبہ سے، شعبہ نے ابوجمرہ سے روایت کی، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائذ بن عمرو النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رِضی اللہ عنہ سے پوچھا اور و ا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ کے ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت قَالَ إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ فَلَا تُوتِرُ کے نیچے بیعت کی تھی، کیا وتر توڑا جاسکتا ہے ؟ مِنْ آخِرِهِ۔ انہوں نے کہا: جب تم رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھ لو تو رات کے آخر میں وتر نہ پڑھو۔ ٤١٧٧ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۴۱۷۷: عبد اللہ بن یوسف نے مجھ سے بیان أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن أَبِيهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی علیم اپنے کسی سفر میں رات نا الله يسلم ت کو وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضٍ أَسْفَارِهِ جارہے تھے اور حضرت عمر بن خطاب بھی آپ کے وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا ساتھ تھے، حضرت عمر بن خطاب نے آپ سے فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَيْءٍ کسی بات کی نسبت پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم