صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 28 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 28

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۸ ۶۴ - کتاب المغازی ہے اور اس میں تمہاری بہتری ہے۔ جیسے فرمایا : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهُ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ (البقرة: ٢١٧) نشم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو ارشاد ہوتا ہے کہ جب بھی تمہیں میدان جنگ میں نکلنا پڑے تو مقصود بیت اللہ سے صنم پرستی اور شرک کی تطہیر ہو، تا الہی منشاء اور غلبہ کی پیشگوئی پوری ہو کر تمہارے مخالفوں کو تمہارے خلاف کوئی اعتراض باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةً لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حجة (البقرة: (۱۵) سورة البقرۃ میں مذکورہ بالا کھلے الفاظ سے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی کی گئی تھی کہ ان کا کیا مطمح نظر ہونا چاہیے لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ آپؐ آپ نکلے تو تھے ابو سفیان والے تجارتی قافلے کو روکنے۔ قافلے کو روکنے کے لئے مگر جب آپ کو یہ اطلاع ملی کہ وہ قافلہ ہاتھ سے نکل گیا ہے تو آپ کو خیال آیا کہ ابو جہل والے حفاظتی دستہ فوج سے ہی مقابلہ کر لیا جائے۔ بھلا مقابلہ کرنے کے لئے آپ کے پاس ظاہری طاقت ہی کیا تھی اور کونسا ساز و سامان تھا کہ اس کے بل بوتے پر ایسا خیال پیدا ہوتا۔ مادی اسباب کا تو ایسے خیال سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ تجارتی قافلہ کا مقصد تو مادی اسباب سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھتا ہے اور صحابہ رکھتا ہے اور صحابہ کرام کی خواہش کی یہی وجہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس غیر مسلح قافلہ کو قبضے میں لا کر کفار قریش کے منصوبہ جنگ پر کاری ضرب لگا سکیں گے۔ لیکن مسلح فوج کے مقابلے میں ان میں سے ایک فریق متردد تھا۔ ان حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ بالا واضح نشان دہی کے بعد تجارتی قافلے کا قصد نہیں کر سکتے تھے۔ سورۃ البقرۃ کی آیات میں آپ کو یہ صریح حکم تھا: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ ۔۔۔ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمُ (البقرة: ۱۹۱ ۱۹۲) سے اس صریح حکم اور وعدہ نصرت کے بعد تعمیل حکم اور منشائے الہی پورا کرنے کے سوا اور کوئی خیال آپ کے ذہن میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ مذکورہ بالا واضح بیان سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تِلْكَ ايْتُ اللهِ تَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (البقرة : ۲۵۳) یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم تجھے پڑھ کر سناتے ہیں، اس حالت میں کہ تو حق پر ( قائم ) ہے اور تو یقینا رسولوں میں سے ہے۔ لفظ آیت کے معنی ہیں علامت، جس سے علم اور راہنمائی حاصل ہو۔ ا۔ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : تم پر قتال فرض کر دیا گیا ہے جبکہ وہ تمہیں ناپسند تھا اور بعید نہیں کہ تم ایک چیز ناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔“ 2 ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” اور جہاں کہیں سے بھی تو نکلے ، اپنی توجہ مسجد حرام ہی کی طرف پھیر اور جہاں کہیں بھی تم ہو ، اسی کی جانب اپنی توجہ پھیرو تاکہ لوگوں کے لئے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ بنے۔“ " ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں اور (دوران قتال ) انہیں قتل کرو جہاں کہیں بھی تم انہیں پاؤ۔“