صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 343
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی ٤١٦٥ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةً حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۴۱۶۵ قبیصہ ( بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ طَارِقٍ قَالَ ذُكِرَتْ عِنْدَ سَعِيدِ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔طارق سے مروی بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ فَضَحِكَ فَقَالَ ہے کہ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب کے سامنے اس درخت کا ذکر آیا تو وہ ہنس پڑے، انہوں نے أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ شَهِدَهَا۔اطرافه: ۴۱۶۲، ۴۱۶۳، ۴۱۶۴ کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ اس بیعت میں شریک تھے جو اس کے نیچے ہوئی۔٤١٦٦ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۴۱۶۶ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن مرہ سے مروی ہے، سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ كَانَ سے سنا، وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ درخت کے نیچے آنحضرت صلی الیہ کمی کی بیعت کی تھی، قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِ عَلَيْهِمْ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب لوگ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ کچھ صدقہ لاتے تو آپ یوں دعا کرتے : اے اللہ ! ان کو اپنی خاص رحمت سے نواز۔چنانچہ میرے عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى۔اطرافه ۱۳۹۷، ۶۳۵۹،۶۳۳۲ باپ اپنا صدقہ لے کر آنحضرت مصل الم کے پاس آئے تو آپ نے دعا کی: اے اللہ ! ابو اوفی کی اولاد کو رحمت خاصہ سے نواز۔٤١٦٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَخِيهِ ۴۱۶۷: اسماعیل ( بن ابی اویس) نے ہمیں بتایا۔عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ انہوں نے اپنے بھائی (عبدالحمید) سے ، انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے عمرو بن يحي عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ (مازنی) سے ، عمرو نے عباد بن تمیم سے روایت کی، الْحَرَّةِ وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ انہوں نے کہا: جب حرہ کا واقعہ ہوا اور لوگ عبد اللہ حَنْظَلَةَ فَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ عَلَى مَا يُبَايِعُ بن حنظلہ کی بیعت کر رہے تھے تو حضرت (عبد اللہ) ابْنُ حَنْظَلَةَ النَّاسَ قِيلَ لَهُ عَلَى الْمَوْتِ بن زید انصاری مازنی) نے پوچھا: ابن حنظلہ لوگوں