صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 339 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 339

صحیح البخاری جلد ۸ ۳۳۹ ۶۴ - کتاب المغازی عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَ حدیبیہ کا واقعہ ہوا نبی صلی العلیم ایک ہزار سے کچھ اوپر بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ صحابہ کو لے کر نکلے جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ وَأَحْرَمَ مِنْهَا لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور (اس کی کوہان پر ) نشان لگایا اور وہیں سے احرام باندھا۔ (علی بن عبد اللہ مدینی کہتے تھے کہ) میں نہیں گنا سکتا کہ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا أَحْفَظُ مِنَ الزُّهْرِيَ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ کتنی بار میں نے یہ بات سفیان سے سنی ہے، میں فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ نے سفیان کو یہ بھی کہتے سنا: زہری سے مجھے یہ وَالتَّقْلِيدِ أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ۔ بات یاد نہیں کہ انہوں نے نشان لگانے اور ہار پہنانے کا ذکر کیا ہو، اس لئے میں بھی نہیں جانتا کہ نشان لگانے اور ہار ڈالنے سے یا اس ساری بات سے کیا مراد تھی۔ اطراف الحديث ٤١٥٧ : ۱۶۹۵، ۲۷۱۱، ۴۱۷۹،۲۷۳۲، ۴۱۸۰ اطراف الحديث ٤١٥٨: ۱۶۹۴، ۴۱۸۱،۴۱۷۸،۲۷۳۱،۲۷۱۲،۱۸۱۱۔ ٤١٥٩: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ ۴۱۵۹: حسن بن خلف (واسطی) نے ہم سے بیان قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ کیا، انہوں نے کہا: اسحاق بن یوسف نے ہمیں بتایا، انہوں نے ابو بشر ورقاء ( بن عمر یشکری) أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ سے، ابو ابو بشر نے (عبد اللہ ) بن ابی صبیح سے، ابن عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی، انہوں نے کہا: بْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عبد الرحمن بن ابی لیلی نے مجھے بتایا کہ حضرت کعب أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن عجرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ نے ان کو دیکھا کہ ان کے سر کی جوئیں اُن کے منہ أَيُؤْذِيْكَ هَوَامُّكَ قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَهُ پر گر رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ جو میں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمنڈ والیں يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُبَيِّنْ لَّهُمْ اور وہ اس وقت حدیبیہ میں تھے۔ آپؐ نے ان أَنَّهُمْ يَحِلُّوْنَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَع أَنْ کو کھول کر نہیں بتایا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں احرام