صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 27 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 27

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۷ ۶۴ - كتاب المغازی بجائے فائدہ اُٹھانے کے اپنی بینائی کھو بیٹھیں گے یعنی حیران رہ جائیں گے کہ اب کیا کریں۔ نتیجہ تو ہماری توقعات کے خلاف نکلا۔ روم بنی اسرائیل (یہود) نے جو معاہدات مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے تھے۔ وہ توڑیں گے اور جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کے خلاف منصوبے کئے گئے تھے ویسے ہی منصوبے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کریں گے۔ لیکن وہ مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور خود تباہ ہو جائیں گے اور دنیا میں بھی انہیں ذلت اٹھانی پڑے گی اور آخرت میں بھی ذلیل ہوں گے اور سزا پائیں گے۔ یہ سب مضمون قرآن مجید میں سورۃ البقرہ کی آیات ۱۰۳ تا ۱۰۶ میں بیان ہوا ہے۔ سوم مسلمانوں کو جالوت جیسے دشمن کے ساتھ طالوت اور داؤد کی سی فیصلہ کن جنگ کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔ جس میں مسلمانوں کی آزمائش ہو گی اور انجام کار غلبہ اور فتح مسلمانوں کو حاصل ہوگی۔ جیسے کہ آیت كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةٌ بِإِذْنِ اللهِ (البقرۃ: ۲۵۰) اور آیت وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصبرين ان (البقرۃ:۱۵۶) کے میں ذکر ہے۔ چهارم پھر سورۂ بقرہ میں فرمایا : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَ بَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة: ۱۸۶) اس آیت میں بعض غزوات کے ماہِ رمضان میں ہونے اور ان کے فرقان بننے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ جو الفاظ بَيِّنَتِ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ میں واضح نظر آتی ہے۔ نیز آیات متعلقہ جنگ بدر میں بھی غزوہ بدر کا نام یوم الفرقان رکھا گیا ہے۔ (الأنفال: ۴۳،۴۲) اگر قافله منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے روک دیا جاتا تو قریش مکہ کا جنگی تیاری کا منصوبہ وقتی طور پر ختم ہو سکتا تھا۔ لیکن الہی منشاء یہ تھا کہ واقعہ بدر کو حق اور باطل کے درمیان فرقان بنائے۔ پنجم مومنوں کو اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ جنگ با وجود تمہیں ناپسند ہونے کے تم پر فرض کی گئی ام ترجمه حضرت خليفة المسيح السابع " کتنی ہی کم تعداد جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے کثیر التعداد جماعتوں پر غالب آگئیں۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیدے۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اُتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔“