صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 333
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۳۳ ۶۴ - کتاب المغازی بَاب ٣٥ : غَزْوَةُ الْحُدَيْبِيَةِ غزوہ حدیبیہ وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: لَقَدْ رَضِيَ الله اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ۔۔۔عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ یعنی اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔الشَّجَرَةِ (الفتح: ١٩) ٤١٤٧: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۴۱۴۷: خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان بن حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي بلال نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: صالح صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْن بن کیسان نے مجھے بتایا: انہوں نے عبید اللہ بن الله عبد اللہ سے، عبید اللہ نے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہتے تھے : جس سال عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْن خَالِدٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ حدیبیہ کا واقعہ ہوا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ نکلے۔ایک رات ہم پر بارش ہوئی۔رسول اللہ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى لَنَا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔پھر رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم الصُّبْحَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَتَدْرُونَ جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ ہم نے مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قُلْنَا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فَقَالَ قَالَ اللهُ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي کہا: اللہ نے فرمایا ہے: آج صبح میرے بندوں میں فَأَمَّا مَنْ قَالَ سے بعض مجھ پر ایمان لانے والے ہوئے اور بعض مُؤْمِنْ بِي وَكَافِرٌ بِي مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ انکار کرنے والے۔جس نے یہ کہا کہ اللہ کی رحمت اور اللہ کی عطا اور اللہ کے فضل سے ہم پر بارش فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں کا وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا فَهُوَ منکر اور جس نے یہ کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي۔ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرا انکار کرنے والا ہے۔اطرافه: ۷۵۰۳،۱۰۳۸۰۸۴۶