صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 332 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 332

صحیح البخاری جلد ۸ ۳۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی مُعَنْعَنُ ہے یعنی ان کی روایت میں یہ نہیں کہ میں نے حضرت ام رومان سے پوچھا یا انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے بلکہ صرف یہ ہے کہ حضرت ام رومان سے روایت ہے۔ بعض روایتوں میں لفظ سألت تھا جو دراصل صیغہ مجہول مؤنث سُئِلَت تھا كاتب تھا کا تب کی غلطی سے متکلم معروف لکھا گیا ہے۔ امام معروف لکھا گیا ہے۔ امام ابن حجر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام بخاری کی مذکورہ بالا روایت ہی دراصل درست ہے۔ روایت إِنَّ أُمَّ رُؤْمَانَ مَاتَتْ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ اللَّهُ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَقِيلَ سَنَةً خَمْسٍ وَقِيلَ سِتَّ وَهُوَ شَيْءٍ ذَكَرَهُ الْوَاقِدِيُّ وَلَا يُتَعَقَّبُ الْآسَانِيدُ الصَّحِيحَةُ بِمَا يَأْتِي عَنِ الْوَاقِدِي که ہ حضرت ام رومان آنحضرت صلی العلم کی زندگی میں فوت ہوئیں آھ میں یا ۵ھ میں یا ۶ ھ میں، واقدی کی روایت ہے۔ واقدی سے روایت کرنے والے صحیح سندوں کی چھان بین نہیں کرتے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۴۶) امام بخاری نے اپنی تاریخ الاوسط میں صراحت سے لکھا ہے کہ یہ قول کہ حضرت ام رومان ۶ھ میں فوت ہوئیں مشتبہ ہے اور انہوں نے ان کی فوتیدگی صحابہ کی اس فہرست میں دکھائی ہے جو حضرت عثمان کے زمانہ میں فوت ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک مسروق حضرت ام رومان سے ملے ہیں۔ آیت فَتَعَالَيْنَ امَتِّعَكُنَ وَ أَسَرَّحُكُنَ سَرَاحًا جميلا (الأحزاب: ۲۹) ۹ھ میں نازل ہوئی تھی جس کی بناء پر آنحضرت صلی للہ ہم نے اپنی ازواج کو اختیار دیا تھا کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال و متاع دے دو دیتا ہوں اور اچھے طور پر تمہیں رخصت کر دوں گا۔ اس موقع پر نبی اکرم صلی علی ایم نے حضرت عائشہ سے فرمایا: إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيْهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيْهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَ أَمْ رُؤْمَانَ ے میں آپ کے سامنے ایک بات پیش کرنے والا ہوں، اس بارے میں جلدی سے کسی بات کا فیصلہ نہ کریں جب تک کہ اپنے والدین ابو ابو بکر بکر اور اور ام ام رومان رومان کے سامنے پیش نہ کرلیں۔ اس اس واقعہ واقعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت ام رومان وھ میں زندہ تھیں جس سے واقدی کی روایت غلط ثابت ہوتی ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۴۶) اس باب میں چوھی مذکورہ روایت ) چوتھی مذکورہ روایت (نمبر ۴۱۴۴) میں تَلِقُونَہ کی قرآت کا ذکر ہے کہ یہ وَلَق سے یہ ولق سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں جھوٹ میں جلد بازی سے کام لینا۔ پانچویں اور چھٹی روایت سے ظاہر ہے کہ ، ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ اخلاق فاضلہ میں بہت بلند پایہ خاتون تھیں۔ حضرت حسان بن ثابت کے خلاف سننا گوارہ نہ کیا بحالیکہ ان کا رجحان الزام لگانے والوں کی طرف تھا۔ یہ اعلی تربیت انہیں آنحضرت صلی اللی رام کے مقدس نمونہ سے حاصل ہوئی تھی۔ ایک بار حضرت عائشہ نے آپ کے سامنے آپؐ کی ایک زوجہ کے بارے میں طنز کی یعنی کہا کہ وہ پست قد ہے آپ اتنی خوبیاں اس کی بیان فرمارہے ہیں بس کریں۔ کے آپؐ نے فرمایا: معصومیت تو انبیاء علیہم السلام اور بعض خواص سے مخصوص ہے۔ ان کے علاوہ کوئی انسان خامی سے خالی نہیں۔ البتہ خوبیاں زیادہ ہوتی ہیں اور کمزوریاں کم زیادہ ہوتی ہیں اور کمزوریاں کم ۔ خوبیوں پر نظر رکھنی چا۔ منی چاہیے اور کمزوری سے چشم پوشی۔ درہ بالا روایات میں ہمارے لئے یہی قیمتی سبق ہے، مگر افسوس عام طور پر ہماری نظر کمزوریوں کی طرف ہی جاتی ہے۔ حسان بن ثابت نے اپنی غلطی کا تدارک اپنے اشعار میں کما حقہ ادا کر دیا۔ ان کی مدح کے ادا کر دیا۔ ان کی مدح کتنی بلیغ اور صحیح ہے۔ مذکورہ حضرت ا (مسند أحمد بن حنبل، حديث السيدة عائشة رضي الله عنها، جزء ۶ صفحه ۲۱۱) (ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، باب (۵) (ابو داود، کتاب الأدب، باب في الغيبة )