صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 332
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی معنعن ہے یعنی ان کی روایت میں یہ نہیں کہ میں نے حضرت ام رومان سے پوچھا یا انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے بلکہ صرف یہ ہے کہ حضرت ام رومان سے روایت ہے۔بعض روایتوں میں لفظ سألت تھا جو دراصل صیغہ مجہول مؤنث شریکت تھا کاتب کی غلطی سے متکلم معروف لکھا گیا ہے۔امام ابن حجر" نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام بخاریؒ کی مذکورہ بالا روایت ہی دراصل درست ہے۔روایت إِن أُمَّ رُؤْمَانَ مَانَتْ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ لا سَنَةً أَرْبَعٍ وَقِيلَ سَنَةً خَمْسٍ وَقِيْلَ سِكٍ وَهُوَ شَيْ ذَكَرَهُ الْوَاقِدِئُ وَلَا يُتَعَقَّبُ الأَسَانِيْدُ الصَّحِيحَةُ بِمَا يَأْتِي عَنِ الْوَاقِدِي کہ حضرت ام رومان آنحضرت علی ال نیم کی زندگی میں فوت ہوئیں آٹھ میں یا ۵ھ میں یا ۶ ھ میں ، واقدی کی روایت ہے۔واقدی سے روایت کرنے والے صحیح سندوں کی چھان بین نہیں کرتے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۴۶) امام بخاری نے اپنی تاریخ الاوسط میں صراحت سے لکھا ہے کہ یہ قول کہ حضرت ام رومان ۶ ھ میں فوت ہوئیں مشتبہ ہے اور انہوں نے ان کی فوتیدگی صحابہ کی اس فہرست میں دکھائی ہے جو حضرت عثمان کے زمانہ میں فوت ہوئے ہیں۔ان کے نزدیک مسروق حضرت ام رومان سے ملے ہیں۔آیت فَتَعَالَيْنَ أَمَتَعَلْنَ وَ أَسَرْحَمْنَ سَرَاحًا جميلا (الأحزاب: ۲۹) ۹ھ میں نازل ہوئی تھی جس کی بناء پر آنحضرت علی علی ایم نے اپنی ازواج کو اختیار دیا تھا کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال و متاع دے دیتا ہوں اور اچھے طور پر تمہیں رخصت کر دوں گا۔اس موقع پر نبی اکرم منی لی ہم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيْهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيْهِ عَلَى أَبَوَيْثِ أَبِي بَكْرٍ وَ أَو رُومان میں آپ کے سامنے ایک بات پیش کرنے والا ہوں، اس بارے میں جلدی سے کسی بات کا فیصلہ نہ کریں جب تک کہ اپنے والدین ابو بکر اور ام رومان کے سامنے پیش نہ کرلیں۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت ام رومان وھ میں زندہ تھیں جس سے واقدی کی روایت غلط ثابت ہوتی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۴۶) اس باب میں چوتھی مذکورہ روایت (نمبر ۴۱۴۴) میں ٹھونہ کی قرآت کا ذکر ہے کہ یہ وئق سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں جھوٹ میں جلد بازی سے کام لینا۔پانچویں اور چھٹی روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ اخلاق فاضلہ میں بہت بلند پایہ خاتون تھیں۔حضرت حسان بن ثابت کے خلاف سنا گوارہ نہ کیا بحالیکہ ان کا رجحان الزام لگانے والوں کی طرف تھا۔یہ اعلیٰ تربیت انہیں آنحضرت علی ای کم کے مقدس نمونہ سے حاصل ہوئی تھی۔ایک بار حضرت عائشہ نے آپ کے سامنے آپ کی ایک زوجہ کے بارے میں طنز کی یعنی کہا کہ وہ پست قد ہے آپ اتنی خوبیاں اس کی بیان فرمارہے ہیں بس کریں۔کے آپ نے فرمایا: معصومیت تو انبیاء علیہم السلام اور بعض خواص سے مخصوص ہے۔ان کے علاوہ کوئی انسان خامی سے خالی نہیں۔البتہ خوبیاں زیادہ ہوتی ہیں اور کمزوریاں کم۔خوبیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور کمزوری سے چشم پوشی۔مذکورہ بالا روایات میں ہمارے لئے یہی قیمتی سبق ہے ، مگر افسوس عام طور پر ہماری نظر کمزوریوں کی طرف ہی جاتی ہے۔حضرت حسان بن ثابت نے اپنی غلطی کا تدارک اپنے اشعار میں کماحقہ ادا کر دیا۔ان کی مدح کتنی بلیغ اور صحیح ہے۔(مسند أحمد بن حنبل حديث السيدة عائشة رضي الله عنها، جزء ۶ صفحه ۲۱۱) ۲ (ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، باب (۵۱) (ابوداود، کتاب الأدب، باب في الغيبة)