صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 331 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 331

صحیح البخاری جلد ۸ اسمسم ۶۴ - کتاب المغازی حضرت علی تہمت لگانے والوں میں شامل نہیں تھے۔تمہاری قوم کے لوگوں نے ایسا کہا ہے اور اس کے سوا انہوں نے اور کوئی جواب نہیں دیا۔امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امام زہری کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے مذکورہ بالا حقیقت کا انکشاف کیا اور ولید بن عبد الملک کی غلط فہمی دور کی۔اس امر کی تصدیق یعقوب بن شیبہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے اپنی مسند میں حسن بن علی حلوائی سے بسند امام شافعی نقل کی ہے کہ ان کے چچانے انہیں بتایا: سلیمان بن یسار - ہشام بن عبد الملک کے پاس آئے تو ہشام نے ان سے پوچھا کہ سورۃ النور کی آیت (۱۲) وَالَّذِی تَولى كبرا میں کس کا ذکر ہے ؟ انہوں نے کہا: عبد اللہ بن ابی کا۔ہشام نے جواب دیا کہ آپ نے درست جواب نہیں دیا۔سلیمان نے کہا: اخْلَعُ بِمَا يَقُولُ یعنی اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے اس کا علم حاصل کر کے بات کریں۔اسی دوران امام زہری آئے تو ہشام بن عبد الملک نے یہی بات پوچھی۔انہوں نے کہا کہ الذی تونی کبریا سے مراد عبد اللہ بن ابی ہے۔ہشام بن عبد الملک نے کہا: آپ ٹھیک نہیں کہتے اس سے مراد حضرت علی ہیں۔اس پر امام زہری نے کہا : آنا اکذِبُ لَا أَبَا لَكَ وَاللَّهِ لَوْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنَّ اللهَ اَحَلَّ الْكَذِبَ مَا كَذِبتُ: بے پدر ! میں جھوٹ کہتا ہوں ؟ باخدا اگر آسمان سے بھی کوئی پکارنے والا منادی کرے کہ اللہ نے جھوٹ حلال کر دیا ہے تو بھی جھوٹ نہ کہوں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۴۵) روایت نمبر ۴۱۴۲ کے آخر میں لفظ مسلما کے بارے میں ایک اختلاف کی وجہ سے وضاحت کی گئی ہے۔مسند عبد الرزاق میں یہی روایت معمر سے مروی ہے۔اس میں لفظ مسینا ہے۔ابن مردویہ کی روایت میں حضرت عائشہ سے منقول یہ الفاظ ہیں : اِنَّ عَلِيًّا آساء في شَأْنِي وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ ( فتح البارى جزءے صفحہ ۵۴۵) یعنی علی نے میرے بارے میں اچھا رویہ نہیں اختیار کیا، اللہ انہیں معاف کرے یعنی یہ کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اتنا فکر کیوں کرتے ہیں ان کے سوا اور بہت سی عورتیں ہیں۔اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں چھوڑ کر دوسری شادی کی جاسکتی ہے۔ان الفاظ سے خاندان بنی امیہ نے حضرت علی کے خلاف ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ گویا انہیں نعوذ باللہ الزام تسلیم تھا اور آیت الَّذِى تولى كبره سے مراد نعوذ باللہ حضرت علی ہیں۔دونوں باتیں غلط ہیں۔مذکورہ بالا روایت سے یہی بتانا مقصود ہے اور عنوانِ باب میں لفظ اِفت اور آفت کی تشریح بھی اسی غرض سے کی گئی ہے کہ مخالفت و عداوت میں واقعات بگاڑ کر پیش کئے جاتے ہیں۔روایت نمبر ۴۱۴۳ میں بھی حضرت ام رومان کی زبان سے وہی مضمون بیان ہوا ہے جس کی تفصیل روایت نمبر ۴۱۴۱ میں ہے۔روایت نمبر ۴۱۴۱ میں مطلق بیماری کا ذکر ہے جبکہ روایت نمبر ۴۱۴۳ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عائشہ تپ کر زہ سے بیمار ہو گئی تھیں۔اس روایت سے متعلق یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ حضرت ام رومان آنحضرت علی علیکم کے زمانہ میں فوت ہوگئی تھیں اور مسروق صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں جو حضرت ابو بکر کی خلافت میں یمن سے آئے تھے، اس لئے ان کا قول حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُوْمَانَ صحیح نہیں۔امام ابن حجر نے اس اعتراض کے بارے میں ایک یہ جواب دیا ہے کہ مسروق کی یہ روایت ابو وائل بسند حصین بن عبد الرحمن واسطی بعض اور راویوں نے بھی نقل کی ہے جن کی سند