صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 330 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 330

حیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُ بِرِيْبَةٍ وہ پاکدامن ہیں، سنجیدہ ہیں اور ان پر کوئی شبہ نہیں وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْعَوَافِل ہو سکتا اور بے خطا ہیں۔عورتوں کے گوشت سے وہ بھو کی رہتی ہیں (یعنی غیبت کرنے سے پاک ہیں۔)۔فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَكِنَّكَ لَسْتَ اس پر حضرت عائشہ نے حضرت حسان سے کہا: كَذَلِكَ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ مگر تم تو ایسے نہیں ہو۔مسروق کہتے تھے: میں نے تَأْذَنِي لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ حضرت عائشہ سے کہا: آپ نے ان کو اپنے پاس اللَّهُ تَعَالَى: وَالَّذِي تَوَلَّى كَبُرَةُ مِنْهُمْ لَكَ آنے کی اجازت کیوں دی ہے ؟ بحالیکہ اللہ نے فرمایا ہے : اور جس شخص نے ان میں سے اس امر میں عَذَابٌ عَظِيمُ (النور: ۱۲) فَقَالَتْ وَأَيُّ زیادہ حصہ لیا ہے اس کو بہت بڑا عذاب ہوگا۔عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى قَالَتْ لَهُ إِنَّهُ کہنے لگیں: نابینا ہو جانے سے اور کونسا عذاب زیادہ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ سخت ہو گا۔حضرت عائشہ نے ان سے کہا: یہ رسول اللہ صلی علیم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ۴۷۵۶،۴۷۵۵ تھے ، یا کہا: جواب میں کفار کی ہجو کرتے تھے۔تشریح: حَدِيثُ الْإِفَتِ: ایک کا واقعہ اس باب میں ضمنا بیان ہوا ہے۔کتاب الشہادات باب ۱۵ (روایت نمبر ( ۲۶۶) میں فلیح کی سند سے اور یہاں صالح بن کیسان کی سند سے منقول ہے۔عنوان باب میں لفظی صحت کا ذکر کیا گیا ہے۔افت اور آفت دونوں طرح یہ لفظ استعمال ہوا ہے جیسے نجس اور تجس۔پہلا تلفظ مشہور ہے جیسا کہ آیت بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ وَذَلِكَ الكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (الأحقاف:۲۹) یعنی (باطل معبود ) انہیں کوئی کام نہیں دیں گے (بلکہ وہ موقع پر ان کی آنکھوں) سے غائب ہو جائیں گے۔یہ ان کے جھوٹ اور افتراء کا نتیجہ ہے۔قرآت آفَكَهُمْ شاذ ہے۔أَفَكَ بمعنی صَرَفَ ہے یعنی پھیر دیا۔افگھر کے معنی ہیں ایمان سے پھیر دیا جیسا که آیت يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أفِكَ (الذاريات: ١٠ ) میں لفظ آفت پھیرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔آیت کا ترجمہ یہ ہے: (تم سب ایک اختلافی بات میں ہو) جس کی وجہ سے وہی شخص حق سے پھیرا جاتا ہے جس کے حق سے پھیرائے جانے کا حکم صادر ہو جاتا ہے۔واقعہ افک کی تفصیل حضرت عائشہ کی زبان سے بیان کرنے کے بعد پانچ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔روایت نمبر ۴۱۴۲ میں حضرت علی سے الزام دور کیا گیا ہے کہ وہ مذکورہ بالا واقعہ درست تسلیم کرتے تھے۔كَانَ عَلَى مُسلما في شانیا۔یہ قول ولید بن عبد الملک کی قوم کے دو آدمیوں کا ہے اور ظاہر ہے کہ اس وقت بنی امیہ کا خاندان حضرت علی کا حضرت عثمان کی شہادت کی وجہ سے سخت مخالف تھا اور انہیں بدنام کیا جارہا تھا۔ابن شہاب زہری کا قول ” قلت لا“ قابل ترجیح ہے۔ولید بن عبد الملک اور اُن کے ساتھیوں نے ان سے بار بار دریافت کیا تو وہ یہی جواب دیتے رہے کہ