صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 327 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 327

صحیح البخاری جلد ۸ ۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی فِيهِ وَعَلَيْهِ كَانَ فِي أَصْلِ الْعَتِيقِ ہی کہا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں اور ان پر بھی کوئی شک نہیں (یعنی کمزورگی حافظہ کی وجہ سے غیر ثقہ ہوں) بخاری کے پرانے اصل نسخے میں اسی طرح ہے۔كذلك۔سے بیان کیا اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ٤١٤٣ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۱۴۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْن عَنْ کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حصین أَبِي وَائِلٍ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَع سے، حسین نے ابووائل (شقیق بن سلمہ ) سے، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهِيَ أَمْ (ابودائل نے کہا کہ ) مسروق بن اجدع نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا کہ حضرت ام رومان نے مجھے عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ أَنَا وَعَائِشَةُ إِذْ وَلَجَتِ ماں تھیں، کہتی تھیں: اسی اثناء میں کہ میں اور عائشہ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ فَعَلَ اللهُ بیٹھی تھیں، انصار کی ایک عورت اندر آئی، کہنے لگی: بِفَلَانٍ وَفَعَلَ بِفُلَانٍ فَقَالَتْ أُمُّ رُومَانَ الله فلاں فلاں سے ایسا ایسا سلوک کرے۔حضرت وَمَا ذَاكَ قَالَتْ ابْنِي فِيْمَنْ حَدَّثَ ام رومان نے کہا: کیوں کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرا الْحَدِيْثَ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ كَذَا بیٹا بھی ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے یہ بات بیان کی۔(حضرت ام رومان) کہنے لگیں: وہ کیا بات وَكَذَا قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعَ رَسُوْلُ اللهِ ہے؟ کہنے لگی: ایسا ایسا کہتا ہے۔عائشہ نے پوچھا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ رَسُول اللہ صل الیم نے بھی یہ بات سنی ہے ؟ کہنے لگی: قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ قَالَتْ نَعَمْ فَخَرَّتْ ہاں۔عائشہ نے پوچھا اور ابوبکر نے بھی؟ اس نے مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا کہا: ہاں۔عائشہ یہ سنتے ہی بے ہوش ہوکر حُمَّى بِنَافِضِ فَطَرَحْتُ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا گر پڑیں۔ہوش میں آئیں تو انہیں لرزے کا بخار تھا۔میں نے ان کے کپڑے اُن پر ڈال دیئے اور فَغَطَّيْتُهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ انہیں ڈھانپ دیا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قُلْتُ يَا اور آپ نے پوچھا: اسے کیا ہے؟ میں نے کہا: رَسُوْلَ اللهِ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى بِنَافِضِ يارسول اللہ ! اسے لرزے کا بخار ہوگیا ہے۔آپ قَالَ فَلَعَلَّ فِي حَدِيْثِ تُحَدِّثَ بِهِ نے فرمایا: شاید اس بات کی وجہ سے جو اسے بتائی