صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 326
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۲۶ ۶۴ - کتاب المغازی قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنِي ابن شہاب کہتے تھے: یہ وہ حدیث ہے جو مجھے ان مِنْ حَدِيْثِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ ثُمَّ قَالَ لوگوں کی روایتوں سے پہنچی ہے۔ پھر عروہ نے یہ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ بھی کہا: حضرت عائشہ کہتی تھیں: اللہ کی قسم ! اور وہ شخص جس کے متعلق بہتان باندھا گیا ہے ، وہ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيْلَ لَيَقُوْلُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ تھا: سحان اللہ ، اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں نے کبھی کسی عورت کے مِنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ پہلو کو برہنہ نہیں کیا۔ کہتی تھیں پھر اس : پھر اس کے بعد بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔ وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا۔ کہتا اطرافه ۲۵۹۳، ۲۶۳۷، ۲۶۶۱، ۲۶۸۸، ۲۸۷۹، ۴۰۲۵، ۴۶۹۰، ۴۷۴۹، ۴۷۵۰، ۴۷۵۷، ۵۲۱۲ ۷۵۴۵ ،۷۵۰۰ ،۷۳۷۰ ،۷۳۶۹ ،۶۶۷۹ ،۶۶۶۲ ٤١٤٢ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۴۱۴۲ : عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان مُحَمَّدٍ قَالَ أَمْلَى عَلَيَّ هِشَامُ بْنُ کیا، کہا: ہشام بن یوسف (صنعانی) نے مجھے اپنے يُوسُفَ مِنْ حِفْظِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ حافظہ سے لکھوایا۔ کہا: معمر نے ہمیں بتایا: زہری سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے: ولید بن عبد الملک نے عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ لِيَ الْوَلِيدُ بْنُ مجھ سے کہا: کیا تمہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علیؓ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبَلَغَكَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے حضرت عائشہ فِيمَنْ قَذَفَ عَائِشَةَ قُلْتُ لَا وَلَكِنْ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا ؟ میں نے کہا: نہیں۔ مگر قَدْ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِكَ أَبُو تمہاری قوم کے دو آدمیوں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ اور ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث نے مجھے بتایا کہ کہا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَائِشَةَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں سے کہ کہ حضرت علی ان کی نسبت تہمت تسلیم نہیں کرتے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَهُمَا كَانَ تھے کے (ولید بن عبد الملک کے ساتھیوں نے) عَلِيٌّ مُسَلِّمًا فِي شَأْنِهَا فَرَاجَعُوهُ زُہری سے دوبارہ دریافت کیا تو وہ اپنی بات پر قائم فَلَمْ يَرْجِعْ وَقَالَ مُسَلِّمًا بِلَا شَكٍّ رہے اور انہوں نے ( اپنی روایت میں ) لفظ مسلما ا مُسَلِّما کے معنی ہیں سکوت اور خاموشی اختیار کرنا۔ نیز بخاری کے بعض نسخوں میں یہ لفظ مسلما بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں اس معاملہ میں پڑنے سے محفوظ اور سلامت رہے۔ (عمدۃ القاری جزء۷ اصفحہ ۲۰۹)