صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 26 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 26

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۶ ۶۴ - کتاب المغازی میں تم سے بیزار ہوں۔میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہوتا ہے۔ان آیات قرآنیہ میں شیطان سے مراد مفسرین نے سراقہ لیا ہے۔کفار قریش کا عمرو بن حضرمی کی دیت کا منظور نہ کرنا اور طیش و غرور میں ابو جہل کا انتقام لینے کے لئے بضد ہونا اور دیگر اسباب جو انتظام پر ابھارنے کے لئے ظہور میں آئے یہ سب تصرفات الہیہ تھے۔اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ قریش مکہ بغیر تیاری کے اپنے غرور میں فوراً مسلمانوں پر حملہ آور ہوں اور یوم الفرقان کا نشان دکھایا جائے اور یہ واضح ہو جائے کہ مسلمان حق پر ہیں اور قریش مکہ باطل پر۔بعض مؤرخین کا یہ خیال کہ آنحضرت صلی ال کلم قریش کے شام سے آنے والے تجارتی قافلہ کو لوٹنے کے لئے نکلے تھے بالکل غلط خیال ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی جلی کی روشنی میں آپ البی مشیت کو خوب سمجھ رہے تھے۔سورہ بقرہ میں آپ کو راہنما نشانات کے ذریعہ صراط مستقیم واضح طور پر دکھائی گئی تھی۔وہ رہنما نشانات حسب ذیل ہیں: اول > کفار و منافقین آگ بھڑ کا ئیں گے ، بادل گرجیں گے ، بجلیاں کڑکیں گی اور گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائیں گے۔جیسا کہ سورۃ البقرہ کی ان آیات میں یہ مضمون پوری وضاحت سے بیان ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظلمت لا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكُمْ عَلَى فَهُمْ لا يَرْجِعُونَ ) او كَصَيْبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيْهِ ظُلمت وَ رَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَ اللهُ مُحِيطٌ بالكفرين (البقرة : ۱۹ تا ۲۱) عربی کے محاورہ میں آگ جنگ کو بھی کہتے ہیں۔چنانچہ قرآن مجید نے بھی اس محاورہ کو استعمال کیا ہے۔فرماتا ہے : كُلما أوقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَاهَا اللهُ ( المائدة : ۶۵) اس محاورہ کی رُو سے مذکورہ بالا آیات کا مطلب واضح ہے کہ کفار اور منافقین منصوبے کر کے جنگ کی آگ بھڑ کائیں گے لیکن ان جنگوں سے اسلام کو تقویت پہنچے گی اور اسلام کی شان بڑھ جائے گی اور کفار ل (جامع البيان في تأويل القرآن الطبري، تفسير سورة الأنفال، آيت: وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ) (التفسير الكبير للرازي، تفسير سورة الأنفال، آیت: وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” ان کی مثال اس شخص کی حالت کی مانند ہے جس نے آگ بھڑکائی۔پس جب اس (آگ) نے اس کے ماحول کو روشن کر دیا، اللہ اُن (بھڑ کانے والوں) کا نور لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے تھے۔وہ بہرے ہیں، وہ گونگے ہیں، وہ اندھے ہیں۔پس وہ (ہدایت کی طرف نہیں لوٹیں گے۔یا ( ان کی مثال) اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے اترتی ہے۔اس میں اند ھیرے بھی ہیں اور کڑک بھی اور بجلی بھی۔وہ بجلی کے کڑکوں کی وجہ سے، موت کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔اور اللہ کا فروں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” جب بھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُسے بجھا دیتا ہے۔