صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 322
صحيح البخاری جلد ۸ ۳۲۲ ۶۴ - کتاب المغازی قَالَتْ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي وَقَدْ ماں باپ بھی میرے پاس رہے اور میں دو راتیں بَكَيْتُ لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمًا لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ اور ایک دن تنہائی میں روتی رہی، نہ میرے آنسو وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ حَتَّى إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ تھتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ رونا میرے جگر کو پھاڑ دے الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي فَبَيْنَا أَبَوَايَ جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي فَاسْتَأْذَنَتْ گا۔اس اثناء میں کہ میرے ماں باپ میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی ایک انصاری عورت عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا نے میرے پاس آنے کی اجازت چاہی۔میں نے فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي قَالَتْ فَبَيْنَا اسے اجازت دی۔وہ بیٹھ گئی اور میرے ساتھ نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ رَسُوْلُ اللهِ رونے لگی۔کہتی تھیں: ابھی ہم اس حالت میں تھے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آگئے۔ثُمَّ جَلَسَ قَالَتْ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي آپ نے السلام علیکم کہا اور بیٹھ گئے۔کہتی تھیں: جب سے کہ بہتان باندھا گیا تھا کبھی میرے پاس مُنْذُ قِيلَ مَا قِيلَ قَبْلَهَا وَلَقَدْ لَبِثَ نہیں بیٹھے تھے اور آپ ایک مہینہ تک انتظار شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَيْءٍ کرتے رہے مگر آپ کو میرے معاملہ کی نسبت قَالَتْ فَتَشَهَّدَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ کوئی وحی نہ ہوئی۔کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا عليه وسلم جب بیٹھے ، کلمہ شہادت پڑھا۔پھر فرمایا: بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا عائشہ دیکھو تمہارے متعلق یہ یہ بات پہنچی ہے۔وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيْنَةً فَسَيُبَرِّتُكِ الله سو اگر تم بری ہو تو اللہ ضرور بری کرے گا اور اگر وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبِ فَاسْتَغْفِرِي تم سے کوئی لغزش ہوگئی ہو تو اللہ سے استغفار کرو اور اسی کی طرف متوجہ ہو۔کیونکہ بندہ جب خطا اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ کا اقرار کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے تو اللہ بھی اس ثُمَّ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا پر مہربانی کرتا ہے۔کہتی تھیں: جب رسول اللہ قَضَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم بات کر چکے۔میرے آنسو یکا یک وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا ایسے بند ہو گئے کہ میں آنسو کا ایک قطرہ بھی أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لِأَبِي أَجِبْ محسوس نہ کرتی تھی۔میں نے اپنے باپ سے کہا: