صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 318
صحیح البخاری جلد ۸ ۳۱۸ ۶۴ - كتاب المغازی ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَذَلِكَ يَرِيْبُنِي وَلَا أَشْعُرُ وقت تک مجھے کسی شر کا علم نہیں ہوا تھا یہاں تک بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ حِيْنَ نَفَهْتُ کہ جب مجھے بیماری سے آفاقہ ہوا تو میں ( قضائے فَخَرَجْتُ مَعَ أُمَ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ حاجت کے لئے) باہر نکلی اور ام مسطح کے ساتھ وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا وَكُنَّا لَا تَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا میں مناصع کی طرف گئی اور یہ ہمارے بول و براز کی جگہ تھی اور ہم رات ہی کو نکلا کرتی تھیں اور یہ إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ اس وقت سے پہلے کی بات ہے کہ ہم نے اپنے قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا قَالَتْ وَأَمْرُنَا أَمْرُ گھروں کے قریب پاخانے بنائے۔ کہتی تھیں: اور الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي الْبَرِّيَّةِ قِبَلَ الْغَائِطِ قضائے حاجت میں ہماری حالت بھی ان عربوں وَكُنَّا نَتَأَذَى بِالْكُنُفِ أَنْ نَّتَّخِذَهَا عِنْدَ کی سی تھی جو بیابان میں رہا کرتے تھے اور ہم بُيُوتِنَا قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحِ پاخانوں سے تکلیف محسوس کرتے تھے کہ اپنے وَهِيَ ابْنَةُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ گھروں کے قریب انہیں بنائیں۔ کہتی تھیں: میں اور ام مسطح گئیں میں اور یہ ابو ابور ہم بن مطلب بن عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ عبد مناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر خَالَةُ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ کی بیٹی تھیں جو حضرت ابو بکر صدا ابو بکر صدیق کی خالہ تھیں بْنُ أَثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ اور ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھا۔ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا جب میں اور مسطح کی ماں اپنی حاجت سے فارغ ہو کر مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي گھر کی طرف آرہے تھے، اتنے میں مسطح کی ماں مِرْطِهَا فَقَالَتْ نَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ اپنی اوڑھنی میں الجھ کر گر پڑیں اور بولیں : سطح کا لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسْبِيْنَ رَجُلًا شَهِدَ برا ہو۔ میں نے ان سے کہا: کیا ہی بُرا کلمہ ہے جو تم نے کہا ہے ؟ کیا ایسے آدمی کو بُرا کہتی ہو جو بدر بَدْرًا فَقَالَتْ أَيْ هَنْتَاهُ وَلَمْ تَسْمَعِي میں شریک ہوا تھا؟ کہنے لگیں: اے بھولی بھالی ! مَا قَالَ قَالَتْ وَقُلْتُ مَا قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي ابھی تم نے سنا نہیں جو اُس نے کہا ہے ؟ میں نے بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ قَالَتْ فَازْدَدْتُ کہا: کیا کہا ہے؟ چنانچہ مصطلح کی ماں نے اٹک والوں مَرَضًا عَلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى کا قصہ مجھے بتایا۔ کہتی تھیں: میری بیماری اور بڑھ بَيْتِي دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ گئی۔ جب میں اپنے گھر میں واپس آئی تو رسول اللہ